ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 261 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 261

261 یہاں پہنچ کر اسلام کی دشمنی ظاہر ہو جاتی ہے۔جو میں مضمون بیان کر رہا ہوں ایک فرضی الزام نہیں ہے جو ان پر عائد کیا جارہا ہے۔ان کا طرز عمل کھول کر بتا رہا ہے کہ محض سیاسی دشمنی نہیں ہے بلکہ اسلام کی دشمنی بھی اس ساری صورتحال میں کارفرما ہے۔ایسی صورت میں ان سے کیا سلوک ہونا چاہئے؟ جس قسم کے ہتھیاروں سے کوئی دشمن حملہ کرتا ہے اسی قسم کے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف قرآن کریم سے جائز ثابت ہے بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔مغربی حملوں کیلئے مسلمانوں کو عالمی رائے عامہ اور اقتصادی ہتھیاروں کے استعمال کا مشورہ اس وقت کی مغربی دنیا کے ہاتھ میں دو بڑے ہتھیار ہیں جن کو یہ اپنے مد مقابل کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ایک ہے عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں اور دوسرے کے خلاف استعمال کرنا اور دوسرا ہے اقتصادی دباؤ۔چنانچہ جب بھی یہ کسی ملک کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں تو آپ پڑھتے ہوں گے کہ یونائیٹڈ نیشن ( United Nation) نے ، اقوام متحدہ وغیرہ میں یہ کوششیں کی جاتی ہے کہ اس کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔یہ جو دو ہتھیار ہیں یہ ان کے نزدیک مہذب ہتھیار ہیں۔ان کے خلاف آواز نہیں بلند کی جاسکتی۔ان دو ہتھیاروں کو کیوں عالم اسلام استعمال نہیں کرتا۔بجائے اس کے کہ معصوم ، مظلوم مسلمانوں کو گلیوں میں نکال کر ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرو اور ٹکڑے ٹکڑے کرو۔جس دشمن نے حملہ کیا اس دشمن کے خلاف نبرد آزما ہو اور انہی ہتھیاروں کو اس کے خلاف استعمال کرو جن ہتھیاروں کو وہ خود استعمال کرنا جانتا ہے اور آج بھی استعمال کر رہا ہے۔مسلمانوں کے رویہ سے مغربی دنیا ظالم ہوتے ہوئے مظلوم بن گئی پس سلمان رشدی کی اس کتاب کے نتیجے میں جو عالمی رائے عامہ مسلمانوں کے حق میں ہو سکتی تھی ہمارے غلط رد عمل کے نتیجے میں وہ ساری عالمی رائے عامہ ان لوگوں کے حق میں ہوگئی ہے۔یعنی ظلم کرنے والے بھی یہ ہیں اور مظلوم بننے والے بھی یہ ہیں۔آج ساری دنیا ان کے پروپیگنڈے کی وجہ سے ، ساری دنیا نہیں تو دنیا کا ایک کثیر حصہ اور طاقتور حصہ ان کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر یہ نتیجہ نکال رہا ہے کہ مسلمان ظالم ہیں اور مغربی ممالک مظلوم ہیں کیونکہ آزادی ضمیر کے جہاد کا معاملہ ہے اور اس معاملے میں مسلمان آزادی ضمیر کو کچلنے کے درپے ہیں جبکہ مغربی دنیا اس کی حفاظت کر رہی ہے۔اور کتاب کا گند اور غلاظت اور ناجائز جملہ اور ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے دلوں کے ٹکڑے اُڑا دینا ایسے ظالمانہ حملے سے، ان کے نزدیک اس چیز کی کوئی بھی اہمیت نہیں رہی۔مسلمان ممالک کے پاس دولت ہے اور اگر وہ چاہیں تو اقتصادی حملے کے ذریعے بھی جواب دے سکتے ہیں اور رائے عامہ کے میدان میں بھی ان سے بڑی قومی جنگ لڑ سکتے ہیں۔ایسے ایسے لکھنے والے یہاں موجود ہیں جن کو اگر ان کے وقت کی ، ان کے قلم کی قیمت دی جائے اور بات سمجھائی جائے تو خود انہی کے اخبار ان کی آواز کو دبا سکتے ہیں۔بڑے بڑے اعلیٰ پائے کے مصنفین موجود ہیں مغربی دنیا میں جو سمجھدار بھی ہیں۔اگر عربوں کی تیل کی دنیا، ان لوگوں سے تعلق پیدا کرتی اور فوری طور پر جوابی کارروائی کے لئے ان کو لکھنے پر آمادہ کرتی اور اس معاملہ میں خرچ کرتی تو ہرگز بعید نہیں تھا کہ رائے عامہ