ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 260
260 دنیا کو اس کی وجہ سے دھوکہ دے رہے ہیں۔یہاں تک کہ روس تک پہنچ گئے ہیں، جاپان تک پہنچ گئے ہیں کہ ٹمینی نے جو قتل کا فتویٰ دیا ہے اس کے خلاف احتجاج کرو۔یہ پہلی دفعہ شاید واقعہ ہوا ہے کہ قتل کا فتویٰ ؟ یہ دراصل مذہبی حیثیت کا فتوی ہے اور ایک ایسا فتوی ہے جس کی خود اس مذہب میں جس کی طرف وہ فتویٰ منسوب کیا جا رہا ہے کوئی بھی بنیاد نہیں مگر اس کے نتیجے میں یورپ کے بارہ ممالک نے اس ملک کا بائیکاٹ کر دیا اور صدر بش (Bush) کا اعلان آیا ہے کہ ہم پوری طرح یورپ کی پشت پناہی کرتے ہیں اس معاملے میں اور ان کے سفیروں نے روس پر بھی اثر ڈالا اور روس کو بھی اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ قطع تعلقی کرلے ایران سے، یہاں تک کہ ملائشیا پر بھی اپنے اقتصادی تعلقات کی بناء پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی کہ مسلمان ملک ہوتے ہوئے وہ خمینی کے خلاف رد عمل دکھائیں اور اس فتوے کے نتیجے میں اپنے سفیر وہاں سے واپس بلوا لیں۔جاپان تک پہنچے اور جاپان کو بھی اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی ایسی صورت میں جاپان اپنا سفیر ایران سے واپس بلوائے۔تو یہ سارے اسلام کے خلاف ملکوں کا متحد ہو جانا اگر چہ سیاست کے نام پر ہے لیکن کوئی آنکھ ایسی نہیں جو یہ پہچان نہ سکتی ہو کہ اس کے پیچھے در حقیقت اسلام سے نفرت کار فرما ہے یا ایران کی نفرت کارفرما ہے۔تو اس نفرت نے جس طرح اپنا سر اٹھایا ہے یہاں اس سر کے اٹھانے کے نتیجے میں اسلام کی طرف بھی حملہ ساتھ کیا جاتا ہے۔یعنی یوں کہہ لینا چاہئے کہ ایران کی نفرت اور اسلام کی نفرت نے گویا ایک اجتماع کر لیا ہے اور اگر ایران کے خلاف نفرت کا اظہار کریں اور دوست مسلمان ممالک پوچھیں تو ان ممالک سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم اسلام کے خلاف بالکل نہیں ہیں ہم تو ایران سے اپنے بدلے اُتار رہے ہیں اور اگر دوسرے ممالک، اپنے دوست ممالک بات کریں تو ان سے کہیں کہ دیکھیں ہم نے تو اسلام پر حملہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے ہی نہیں دیا۔اور تیسرا اس طرز عمل کا فائدہ یہ اٹھایا انہوں نے کہ سلمان رشدی کی کتاب کی غلاظت سے توجہ اس رنگ میں ہٹائی کہ گویا یہ ثانوی سی بات ہے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، ایک معمولی بات ہے۔اصل واقعہ تو یہ ہے کہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ دے دیا گیا ہے اور مسلمان مظاہرے کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ ایران نے برطانیہ کو یہ پیشکش بھی کی کہ تم کھلم کھلا اس کتاب کو Condemn کرو۔اس کے خلاف نفرت کا، مذمت کا اظہار کرو۔تو پھر تو ہمارے تعلقات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں۔مگر انہوں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا۔کتاب کی مذمت کا ہم اعلان نہیں کریں گے۔یعنی تمام دنیا کو یہ کہ رہے ہیں (یہاں آ کر بات کھل جاتی ہے ) کہ دراصل اس موقع پر اصل جھگڑا یہ ہے کہ خمینی کے اس فتوے کے خلاف مذمت کا اظہار ہونا چاہئے یا نہیں ہونا چاہیئے ؟ خمینی کے فتویٰ کے خلاف تمام دنیا کو مذمت کرنی چاہئے یہ ان کا مطالبہ ہے اور جب کہا جائے کہ جس خباثت کی وجہ سے خمینی نے یہ حرکت کی اس کی مذمت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے تو کہتے ہیں زبان کی اور قلم کی اور ضمیر کی آزادی ہے۔اگر آزادی ہے تو مذمت کرتے ہوئے تمہاری زبانوں پر کیوں تالے پڑ جاتے ہیں۔ایک بے حیائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہواور پھر اس کی مذمت نہیں کرتے۔