ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 259 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 259

259 مقدس ہیں جس طرح عیسائیوں کے نزدیک ہیں۔اور حضرت مسیح اپنی حقیقی شان میں ہم پر زیادہ روشن ہیں، ہم ان کی زیادہ معرفت رکھتے ہیں جو ایک عیسائی دنیا کے تصوراتی مسیح کے۔پس یہاں ایک غیر متوازن جنگ میں اور بھی زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔آخر کس طرح ان باتوں کا جواب دیا جائے؟ پہلی بات تو یہ ہے جیسا کہ میں نے گزشتہ خطے میں جماعت کو نصیحت کی تھی کہ اگر چہ یہ کتاب پڑھنا ایک شدید روحانی اذیت ہے لیکن بعض محققین اگر جواب دینے کی خاطر اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ ان کی مجبوری ہے۔حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ والا مضمون یہاں اس غرض سے اطلاق نہیں پاتا کہ یہاں عالم اسلام کے دفاع کے لئے اور اسلام کے روحانی جہان کے دفاع کے لئے ایک کارروائی، ایک تکلیف دہ کارروائی ضروری ہے۔جب میدان جنگ میں آپ جاتے ہیں تو چر کے بھی لگتے ہیں، آپ زخم بھی کھاتے ہیں، جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں مگر مجبوری ہے۔پس اس تکلیف کو خدا کی خاطر برداشت کرنا پڑے گا۔علماء اس کتاب کا مطالعہ کر کے تجزیہ کریں اور نا پاک حملوں کو عقل و حکمت سے رد کریں بعض علماء کو خصوصیت سے اس کتاب کا مطالعہ کر کے اس کا تجزیہ کرنا پڑے گا ، ہر قسم کے الزامات کو الگ الگ کرنا ہوگا ، تاریخ اسلام کے حوالوں سے دیکھنا ہوگا کہ آیا کسی الزام کی کوئی بنیا د موجود ہے یا نہیں ؟ خواہ وہ کتنی ہی کمزور بنیاد کیوں نہ ہو اور کون سے الزامات ایسے ہیں جو محض فرضی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں اور اس طرح ایک سلسلہ مضامین دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہونا شروع ہو جانا چاہئے۔جس میں اس گندی کتاب کے ناپاک حملوں کو عقلی لحاظ سے اور حکمت کے لحاظ سے رو کر کے دکھایا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ تم جھوٹے اور بددیانت لوگ ہواور سوائے دکھ پہنچانے کے تمہارا اور کوئی بھی مقصد نہیں ان حملوں میں۔چنانچہ وہ تہذیب کا جولبادہ انہوں نے اوڑھا ہوا ہے وہ تہذیب جو دراصل اسلام نے سکھائی ہے۔اس کا سارا لبادہ انہوں نے نہیں اوڑھا لیکن کسی نے ٹوپی اوڑھ رکھی ہے، کسی نے پاجامہ پہن رکھا ہے، کسی نے اور کوئی لباس کا ٹکڑا لیا ہوا ہے اور سارے اسلامی تعلیم کے خوشہ چین ہونے کے باوجود جگہ جگہ سے ننگے بدن بھی ہیں۔اس لئے پورے اسلامی فاخرانہ لباس میں ملبوس ہو کر اسلامی تقویٰ کے لباس پوری طرح اوڑھ کر اور پہن کر اور زیب تن کر کے پھر آپ اس میدان میں مقابلے کے لئے نکلیں اور پھر دیکھیں کہ بفضلہ تعالیٰ کس طرح دشمنوں کو ہر حملے میں ناکام بنایا جا سکتا ہے۔خمینی کے فتوی قتل پر ایران سے لاتعلق ہونے کی خواہش دوسرا پہلو وہ جو ایسا ہے جو زیادہ تر حکومتوں سے تعلق رکھتا ہے۔اسلامتی حکومتوں کو ایسے موقع پر غیرت دکھانی چاہئے اور ناپسندیدگی کا اس رنگ میں اظہار کرنا چاہئے کہ جس سے ان کو محسوس ہو کہ یہ قوم با غیرت ہے اور حملوں کو برداشت نہیں کرے گی لیکن اس کی ناپسندیدگی کا اظہار اس طریق پر ہے کہ ہم لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور دنیا کو دھو کہ نہیں دے سکتے۔اس وقت جو نا پسندیدگی کا اظہار ہے یہ ان کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمانے والی بات ہے اور یہ