ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 258
258 خوشہ چین ہو اسلام کے اور ساری تعلیم کے نہیں صرف چند حصوں کے جن باتوں کو تم نے آج اپنے زعم میں ترقی یافتہ زمانے میں جا کر ایک ترقی یافتہ تحریک کی صورت میں پایا ہے قرآن کریم کی تعلیم کے لحاظ سے اس میں بہت بہت رخنے موجود ہیں اور تمہاری تعلیم ناقص ہے اور جو کچھ تم بتا رہے ہو یہ اچھا ہے وہ پہلے سے اسلام میں موجود ہے اور جو تمہارے پاس نہیں ہے وہ بھی اسلام میں موجود ہے اور تمہاری تہذیب کے نام پر جو تم نے اصول پیش کئے ہیں ان میں جو رخنے ہیں ان کی بھی قرآن کریم نے نشاندہی فرما دی ہے۔پس بنیادی بات یہی ہے کہ قرآن کریم دو دائروں کو الگ الگ کرتا ہے۔جسمانی دائرے کو الگ کرتا ہے اور کلام کے دائرے کو الگ کرتا ہے۔جو حملے جسمانی دائرے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا جسمانی جواب دینے کی اجازت دیتا ہے۔جو حملے کلام کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کلام کے ذریعے جواب دینے کی اجازت دیتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی بد کلامی کرتا ہے یعنی عام دنیا میں خدا اور مقدس وجودوں کی بات نہیں ، عام دنیا میں کسی انسان کے تعلق والے کے خلاف اس کے سامنے بد کلامی کرتا ہے تو عدل کی اعلی تعلیم کے نقطہ نگاہ سے فرماتا ہے کہ ایسا مظلوم اگر بے قابو ہو جائے اور کلام کے ذریعے ویسی بات کرے جو نا پسندیدہ بات ہے۔اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرف نہیں لیکن وہاں پر یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اس کے مقابل پر ہتھیار نکال لے اور اس کے قتل کے در پے ہو جائے یا اسے کوئی جسمانی سزادے۔گستاخی کا جواب زبان یا قلم سے دیا جائے پس یہ دوالگ الگ دائرے ہیں۔جہاں حملہ تلوار سے کیا گیا ہے وہاں تلوار سے جواب دینے کا مسلمان کو حق ہے بلکہ بعض صورتوں میں فرض ہو جاتا ہے اور جہاں زبان سے یا قلم سے حملہ کیا گیا ہے وہاں زبان اور قلم سے جواب دینے کا نہ صرف حق ہے بلکہ فرض بھی ہو جاتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ مغربی دنیا اسلام کو ایک قدیم جاہلانہ مذہب بنا کر دنیا کو دکھائے اگر زبان سے اس حملے کا جواب دیا جاتا اور قرآن کریم کے دیئے ہوئے ہتھیاروں کو عمدگی سے استعمال کرتے ہوئے جوابی حملے کئے جاتے تو یہ ساری بازی الٹ سکتی تھی۔یہ جو جنگ ہے اس میں حکمت چاہئے اور حکمت تو عام مادی جنگوں میں یعنی تلوار کی جنگوں میں بھی چاہئے لیکن خصوصیت سے کلام کی جنگ میں حکمت کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت تھی کہ مغرب کے پاس کون سے ہتھیار ہیں جن کے ذریعے وہ آج اسلام پر حملہ آور ہوا ہے۔ہم کیوں ان ہتھیاروں سے ان پر جوابی حملہ نہیں کر سکتے ؟ جہاں تک گستاخی کا تعلق ہے وہ ہم نہیں کر سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ وجود جو ان کے ہاں مقدس ہے وہ ہمارے ہاں بھی مقدس ہیں۔اس لئے بڑی یک طرفہ سی جنگ بن جاتی ہے اور غیر متوازن جنگ بن جاتی ہیں۔اگر وہ حضرت اقدس محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات پر حملے کرتے ہیں تو فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَك کا مضمون تو ہم پر صادر ہوتا ہے لیکن جوابی حملہ کرنے کی کوئی جانہیں پاتے۔کیونکہ حضرت مریم اسی طرح ہمارے لئے مقدس ہیں بلکہ بعض پہلوؤں سے زیادہ