ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 5
5 الطاف حسین حالی نے 1889ء میں اپنی مشہور مسدس لکھی جس میں اس زمانہ کے مسلمانوں کی بدقسمتی اور بد اعمالی کا نقشہ اس طرح کھینچا۔رہا دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی اسلام کو ایک باغ سے تشبیہہ دے کر فرماتے ہیں : پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر نہیں تازگی کا کہیں نام جس پر ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل ہوئے رکھ جس کے جلانے کے قابل ہے پھر بڑے درد کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے عرض کرتے ہیں۔اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے مت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے جس دین کے مدعو تھے کبھی سیزر 1 و کسری خود آج وہ مہمان سرائے فقراء وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکم خدا ہے فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے جو دین کہ گودوں میں پلا تھا حکماء کی وہ عرضہ تیغ جہلاء صفہاء ہے جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے علامہ اقبال مسلمانوں کے متعلق کہتے ہیں۔وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں! ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود (با نگ در العنوان جواب شکوه صفحه 226) اب مودودی صاحب کی سنئے۔فرماتے ہیں۔"بازاروں میں جائے ،مسلمان رنڈیاں، آپ کو کوٹھوں پر بیٹھی نظر آئیں گی اور مسلمان زانی گشت لگاتے ملیں گے۔جیل خانوں کا معائنہ کیجئے ، مسلمان چوروں، مسلمان ڈاکوؤں اور مسلمان بد معاشوں سے آپ کا تعارف ہوگا۔دفتروں اور عدالتوں کے چکر لگائیے رشوت خوری، جھوٹی شہادت، جعل، فریب، ظلم اور ہر قسم کے اخلاقی جرائم کے ساتھ آپ لفظ "مسلمان" کا جوڑ لگا ہوا پائیں گے۔سوسائٹی میں پھرئیے۔کہیں آپ کی ملاقات"مسلمان 1 روم کے بادشاہ کو کہا جاتا ہے۔