ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 255
255 اسلام کا دفاع ضروری ہے ہر اس سرحد پر جہاں اسلام پر حملے ہورہے ہیں ہمیشہ احمدی صف اوّل پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے دفاع میں سینہ تانے کھڑے رہیں اور کسی شیطان کو یہ طاقت نہ ہو کہ کسی نام پر بھی وہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس پاک مذہب پر حملے کر سکے۔" ( خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 111-132 ) خطبہ جمعہ 3 مارچ 1989ء " گزشتہ خطبے میں ، میں نے سلمان رشدی کی شیطانی کتاب کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ مضمون ابھی تشنہ تکمیل ہے۔بعض ایسے اہم بنیادی سوال ہیں جن کی طرف توجہ مبذول کرنی ضروری ہے۔مغربی دنیا میں سب سے اہم سوال جو اس وقت زیر بحث ہے وہ انسانی ضمیر اور انسانی بیان اور انسانی قلم کی آزادی ہے اور وہ تمام تر توجہ سلمان رشدی کی کتاب کے غلیظ حصوں سے ہٹا کر اس بنیادی اصول کی طرف مبذول کروا رہے ہیں۔گویا کہ دراصل مسلمانوں اور عیسائیوں یا مغربی طاقتوں اور مسلمان مشرقی دنیا کے درمیان دراصل بحث یہی ہے کہ کیا انسانی ضمیر کو آزادی ملنی چاہئے یا نہیں ؟ کیا انسان کو قول اور فعل اور قلم کی آزادی نصیب ہونی "" چاہئے یا نہیں؟۔آیات اللہ کے انکار اور تمسخر پر ایک غیرت مند مسلمان کا رد عمل پھر تیسری ایک آیت میں قرآن کریم نے اس مضمون کی ایک عمومی شکل پیش فرمائی اور ایک غیرت مند مسلمان کے رڈ عمل کا ذکر فرمایا۔یہ دو آیات ہیں جن میں ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے۔ایک آیت سورۃ نساء آیت 141۔اس میں فرمایا: وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمُ ايَتِ اللَّهِ يُكَفَرُبِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِةٍ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللهَ جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكَفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعَانِ اور خدا تعالیٰ نے تم پر اس کتاب میں یہ حکم نازل فرما دیا ہے۔بڑا ہی پر شوکت اور پر زور کلام ہے۔کہ خدا تعالیٰ نے اس کتاب میں جو احکام کی کتاب ہے مسلمانوں کے لئے یہ حکم نازل فرما دیا ہے کہ جب بھی تم خدا تعالیٰ کی آیات کا انکار ہوتا ہواسنو یا دیکھو کہ خدا تعالیٰ کی آیات سے تمسخر کیا جا رہا ہے جیسا کہ بعینہ اس وقت سلمان رشدی کی کتاب کا معاملہ ہے تو کیا کرو؟ کیا یہ کرو کہ اس کے قتل کے فتوے دویا معصوم اور لاعلم مسلمانوں کو بازاروں میں نکال کر گولیوں کا اُن کو نشانہ بنا ؤ ؟ ہرگز نہیں۔گستاخ باتوں والی مجالس سے اٹھ جانے کا حکیمانہ حکم فرمایا ایسی صورت میں تمہارے لئے یہ رد عمل مقرر ہے۔فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمُ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ رد۔غیر کہ ان کے ساتھ ہر گز نہ بیٹھو لیکن ہمیشہ کی قطع تعلقی پھر بھی نہیں کرنی اگر وہ نصیحت پکڑ جائیں اور ان شرارتوں