ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 254
254 کی چند دنوں کی جنگ نہیں ہے۔یہ لوگ اس حملے کو بھول جائیں گے اور یہ تاریخ کی باتیں بن جائیں گی اور پھر ایک بد بخت اُٹھے گا اور پھر حملہ کرے گا اور پھر ایک بد بخت اُٹھے گا اور پھر حملہ کرے گا۔اس لئے احمدیت کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ کے لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سینے تان کے کھڑی ہو جائے۔جس طرح حضرت طلحہ نے کیا تھا کہ جو تیر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر برسائے جا رہے تھے اپنے ہاتھ پر لئے اور ہمیشہ کے لئے وہ ہاتھ بے کار ہو گیا اس طرح اپنا سینہ سامنے تان کر کھڑا ہو جائے۔تمام تیر جو ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چلائے جارہے ہیں اپنے سینوں پر لیں۔یہ اسلام ہے، یہ اسلام کی محبت ہے اس طرح اسلام کا دفاع ہونا چاہئے اور وہ سارے مضامین جو اس کتاب میں چھیڑے گئے ہیں کہانی کے رنگ میں، ان کا متقین اور اہل علم مطالعہ کریں اور ان کے دفاع پر کثرت کے ساتھ مضامین شائع کروا ئیں اور ایک ایک چیز کو لے کر اب جب کہ یہ دلچسپی قائم ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کا پوری طرح دفاع کریں اور یہ فوری کارروائی کا حصہ ہے اور اس کے لئے ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔خوش قسمتی سے میری کتاب "مذہب کے نام پر خون " ایک انگلستان کی کمپنی اس کا انگریزی ترجمہ شائع کر رہی ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے کہ جب اس کا انگریزی ترجمہ ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں 1953ء کے حوالے سے۔بہت سی باتیں کہی گئی ہیں لیکن Islamic Terrorism پر کچھ نہیں کہا گیا اور Islamic Fundamentalism پر کچھ نہیں کہا گیا اور مرتد کی سزا کے قتل کے موضوع کے اوپر جس طرح بھر پور عالمانہ دفاع ہونا چاہئے تھا اس کی بجائے چند ایک باتوں پر اکتفا کی گئی ہے جبکہ حملے متفرق کئی سمتوں سے ہو رہے ہیں۔تو ان کا میں ممنون ہوں کہ ان کے اس توجہ دلانے پر میں نے دونئے باب انگریزی میں اضافہ کئے ہیں جو اردو میں نہیں ہیں اور اس میں منصور شاہ صاحب نے میری مدد کی اور ڈکٹیشن (Dictation) بھی لیتے رہے اور مشورے بھی دیتے رہے اور کافی انہوں نے محنت کی۔بہر حال یہ کتاب اب تیار ہے چھپنے کے لئے اور اس کمپنی کا مجھے پیغام ملا ہے کہ عجیب اتفاق ہے کہ ادھر یہ مسئلہ اٹھا ہے اور ادھر یہ کتاب ہماری تیار ہے۔چنانچہ ہم نے سب دنیا میں یہ اشتہار دے دیا ہے کہ اصل اسلامی تعلیم کیا ہے، اس کے متعلق ایک کتاب آنے والی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ عاجزانہ خدمت کی توفیق بخشی۔۔۔۔۔رشدی کی کتاب کا مکمل جائزہ لینے کے لئے بورڈ قائم کرنے کا اعلان۔۔۔۔۔اس کتاب ( رشدی کی۔ناقل ) کے متعلق چونکہ ایسی غلیظ ہے میں اس کو تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا کیونکہ میں بورڈ مقرر کروں گا جو تجزیہ کر کے اُن تمام جڑوں تک پہنچے جہاں سے یہ غلط الزامات چلتے ہیں اور پھر بعض احمدی محققین کے سپرد یہ کام کیا جائے گا کہ وہ اس کے جواب لکھیں اور مختلف زبانوں میں ترجمے کر کے ساری دنیا میں پیش کئے جائیں۔آج کل چونکہ شیطانی کتاب میں دلچسپی ہے اس لئے ہوسکتا ہے اس کے بہانے جواب میں بھی دلچسپی پیدا ہو جائے جو ویسے عام حالات میں نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہر میدان جنگ میں جہاں