ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 256 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 256

256 سے، ان دکھ کی باتوں سے باز آ جائیں تو اس کے بعد پھر تم ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہو لیکن جب تک وہ اس ذلیل طرز عمل پر قائم ہیں اور خدا تعالیٰ کی پاکیزہ آیات کی گستاخی کرتے ہیں اور تمسخر سے کام لیتے ہیں تمہیں ان کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے اور یہ بیٹھنے کی اجازت نہ دینا اپنی ذات میں ایک بہت بڑا حکیمانہ حکم ہے۔کیونکہ اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں۔یا تو کچھ کمزور طبیعتیں اپنے پیاروں کے خلاف باتیں سن کر مشتعل ہو جاتی ہیں اور قوانین اور احکام کو پس پشت ڈالتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر پھر بعض دفعہ ایسے ظالموں کو قتل تک کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔تو دنیا میں اس سے ہر طرف فساد پھیل سکتا ہے۔دوسرے اپنی غیرت پر حملہ ہوتا ہے اور اگر انسان بیٹھا ر ہے اور ایسی باتیں سنتا ر ہے تو اس کی بے غیرتی اس کے ایمان کو ضائع کر سکتی ہے۔پس دونوں صورتوں میں ہلاکتیں ہے۔پس کیسی اعلیٰ اور مہذبانہ تعلیم ہے اور کیسے انسان کا نفس یا انسان کے نفس سے دوسروں کے نفوس کی حفاظت کرتی ہے کہ جب یہ فرمایا جب تم ایسی باتیں گستاخانہ سنو تو ایسی مجالس سے اُٹھ آیا کرو اور مزید نہیں بیٹھا کرو اور جہاں تک ان کی سزا کا تعلق ہے وہ خدا پر چھوڑو۔اِنَّ الله جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكَفِرِينَ فِى جَهَنَّمَ جَمِيعًا۔خدا تعالیٰ منافقوں کو بھی اور کافروں کو بھی سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔دوسری جگہ فرمایا: وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَحُوضُونَ فِى ابْتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ * وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ، وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّنْ شَيْءٍ وَلَكِنْ ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونه (الانعام: 69-70) فرمایا جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات میں بے لگام باتیں کرتے ہیں، بہکی ہوئی ، ایسی باتیں جن کا نہ سر ہے نہ پیر ہے اور يَخُوضُون کے اندر ہر قسم کا تمسخر، ہر قسم کا مذاق ، ہر قسم کی لغو باتیں شامل ہیں۔تو فرمایا اگر اس قسم کی باتیں کرتے ہیں فَاعْرِضْ عَنْهُم تلوار میں نکال کر ان کے قتل کے درپے نہ ہو جاؤ بلکہ ان سے الگ ہو جاؤان سے بے تعلقی اختیار کر لو حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ط یہاں پھر یہ شرط لگادی کہ مستقل بے تعلقی اور مستقل بائیکاٹ کا حکم نہیں ہے بلکہ جب تک شریر اپنی شرارت پر قائم ہے اس وقت تک اس سے قطع تعلقی کرو۔ہاں جب وہ دوسری باتوں میں بہکنے لگے تو پھر ان کو بہکنے دو۔دنیاوی باتوں میں وہ لوگ لغو باتیں کرتے ہی رہتے ہیں لیکن تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں اس معاملے میں۔ہاں دینی معاملہ میں تمہارا غیرت دکھانا فرض ہے اور غیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں ان سے الگ ہو جا وَوَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِين اگر تمہیں شیطان بھلا دے پھر اس کے بعد، اس نصیحت کے بعد تم نے ظالموں کے ساتھ کبھی بھی نہیں بیٹھنا۔یہاں وَام يُنسِيَنَّكَ الشَّيطنُ سے پھر کیا مراد ہے؟ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کمزور طبیعتیں جوان لغو باتوں کو سن کر زخمی ہو جاتی ہیں اور متاثر ہو جاتی ہیں ان کو بعد میں بھی اسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت نہیں کیونکہ رفتہ رفتہ پھر ان کا ایمان بالکل