ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 253
253 احمدیت کے خلاف ہمیشہ گندی سازشیں کرتے رہے اور تحریکات چلاتے رہے۔لیکن آج خمینی نے جب یہ قتل کا فتویٰ دیا تو تم اس قتل کے فتویٰ کے بھی خلاف ہو گئے۔یہ تمہارا تقویٰ ، یہ تمہارا مذہب ، یہ تمہاری سیاست ہے۔اس کو تم اسلام کہتے ہو؟ وہی اسلام پہنچے گا دنیا میں جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام ہے جس کے ساتھ احمد بیت دل و جان کے ساتھ وابستہ ہے اور ہمیشہ وابستہ رہے گی اور اس اسلام سے ہٹنے کے نتیجے میں تم نے خود دشمن کے ہاتھ میں وہ ہتھیار پکڑا دیئے جن کو پکڑ کر وہ اب غلیظ حملے کر رہا ہے اور تمہارے پاس حقیقت میں ان کے جواب کی کوئی کارروائی نہیں رہی ، کوئی موقع نہیں رہا، کوئی ہتھیار نہیں رہا۔آنحضرت کے تقدس کی حفاظت کے لئے احمدی اپنی زندگیاں وقف کر دیں پس میں احمدیوں کو اب یہ تلقین کرتا ہوں کہ صورتحال کے تجزیہ کے نتیجے میں وہ ایسی مؤثر اور دیر پا کارروائی کریں جو آئندہ نسلوں تک پھیل جائے۔اگلی صدی ، اُس سے انگلی صدی ، اُس سے اگلی صدی۔اب یہ ایک صدی کا معاملہ نہیں ہے۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا زمانہ غلام ہے۔اپنے پہلے زمانے کے بھی وہ بادشاہ تھے اور آئندہ زمانوں کے بھی وہی بادشاہ ہیں اس لئے ہمیشہ کے لئے جماعت احمد یہ ایسی کوششوں میں وقف ہو جائے جس کے نتیجے میں دشمن کے ہر نا پاک حملے کو ناکام بنایا جائے۔پس میں جماعت کی اُن نسلوں کو خصوصیت سے مخاطب ہوں جوان ملکوں میں پیدا ہوئے ہیں جہاں اسلام پر حملے ہوتے ہیں کہ اگر چہ ہم ان حملوں کے لئے دفاع کا مضمون جہاں سمجھتے ہیں لیکن یہاں کی زبان کے اسرار ہمیں نہیں آتے۔وہ لوگ جنہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی ہے ہندوستان میں یا پاکستان میں یا دیگر ممالک میں شاذ ان میں سے ایسے ہیں جن کا بچپن کا ماحول وہی تھا جو اہل زبان انگریزی دانوں کا ماحول ہوا کرتا ہے۔جیسے اعلیٰ ، اعلیٰ تو نہیں کہنا چاہیئے ایسے انگریزی سکولوں میں،Convent سکولوں میں پڑھے جس کے نتیجے میں دین کا بے شک کچھ نہ رہا ہولیکن انگریزی زبان پر دسترس ہوگئی اور اس محاورے کے واقف ہو گئے جو ان کو پسند آتا ہے۔اس لئے اپنی نئی نسلوں کو مقامی زبانوں میں ماہر بنائیں اور نئی نوجوان نسلوں میں سے کثرت کے ساتھ اخبارنویس پیدا کریں کیونکہ صرف زبان کا محاورہ کافی نہیں اخبار نویسی کی زبان کا محاورہ ضروری ہے اور اس نیست سے کریں کہ ساتھ ساتھ یہ اسلام کا گہرا مطالعہ بھی کریں گے تاکہ ان کی زبان دانی اسلام کے حق میں اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں استعمال ہو۔اس لئے امریکہ ہو یا افریقہ ہو یا چین ہو یا جاپان ہو یا یورپ کے متفرق ممالک ہوں یا ایشیا کے دیگر ممالک جہاں جہاں بھی احمدی خدا کے فضل کے ساتھ موجود ہیں اور مقامی طور پر ایسی پرورش انہوں نے پائی ہے اور ایسی تعلیم حاصل کی ہے کہ اس ملک کے اہل زبان شمار کئے جاسکتے ہیں۔ان کو محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے لئے وقف ہو جانا چاہئے اور اس نیت سے ادب اور کلام پر دسترس حاصل کرنی چاہئے اور قادر الکلام بننا چاہئے کہ خود انہی کے ہتھیاروں سے انہی کے انداز سے ہم ان کے متعلق جوابی کارروائی کریں گے اور اسلام کا دفاع کریں گے اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس کی حفاظت کریں گے اور یہ جنگ آج