ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 252
252 میں ہوا، یہ کس حکمت اور کس عقل کے مطابق ہورہا ہے اور اُدھر حالت یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے شرارت کر کے خاص طور پر ایران پر حملہ کیا تھا اور توقع یہ رکھتے تھے جس نے بھی یہ شرارت کی ہے کہ ایران اس کی جوابی کارروائی کرے گا۔اب جو عرب کا دل ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور حجاز کی سرزمین وہاں سے کوئی جوابی کارروائی کا اعلان نہیں ہورہا۔ایران بول رہا ہے اس لئے مصر سے فتویٰ ہو گیا ہے کہ نہیں بلا شیمی (Blasphemy) کے اوپر کسی کو قتل کرنے کا فتویٰ دینے کی اجازت نہیں۔کیسے تضادات پیدا ہو گئے ہیں۔ایک طرف یہ تعلیم کہ اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر کوئی اشارہ بھی ایسی بات کہے جو گستاخی کبھی جائے اس کا قتل فرض ہے اور کہاں ثمینی کی دشمنی میں اب یہ فتویٰ کہ اتنی غلیظ کتاب جو سراسر خباثتوں پر مشتمل ہے اُس کے مصنف کے اوپر بھی موت کا فتویٰ جاری نہیں کیا جاسکتا اسلامی تعلیم کی رو سے۔نہ اس غیر دنیا میں مذہب رہا نہ اپنی دنیا میں مذہب رہا۔وہاں بھی ایک جھوٹی سیاست اور ملمع کاری ہے یہاں بھی ایک جھوٹی سیاست اور ملمع کاری ہے۔مسلمانوں سے معافی کا اعلان اور ہٹ دھرمی وہ دیکھئے پاکستان کے ایک مشہور عالم کہلانے والے مولوی محمد طفیل صاحب جنہوں نے افغان صورتحال سے خوب فائدہ اُٹھایا ضیاء کے زمانے میں۔اس سلمان رشدی نے معافی کا اعلان کیا کہ مجھے معاف کر دیا جائے اور انہوں نے کہا ہاں ہم تمہیں معاف کرتے ہیں۔ایک احمدی اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں لَا إِلَهَ إِلا لله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا نعرہ بلند کرتا ہے اُس کو تم واجب القتل قرار دیتے ہو اور کسی قیمت پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں اور بے حیائی کی حد یہ ہے کہ ایک نہایت ہی خبیث مصنف جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر بزرگ انبیاء اور صحابہ پر نہایت گندے اور ناپاک حملے کئے جس سے ایک غیرتمند مسلمان کا خون کھولنے لگتا ہے اُس کو تم اس لئے معاف کر دیتے ہو کہ وہ کہتا ہے میں معافی مانگتا ہوں اور ساتھ یہ بھی اعلان کرتا ہے۔انہی ریڈیوز، ٹیلیویژنز کے اوپر کہ کاش میں نے اس سے زیادہ گندی کتاب، اس سے زیادہ سخت کتاب لکھی ہوتی اور ایک لفظ بھی اپنی کتاب کے مضمون کے خلاف نہیں لکھتا اور آپ کہتے ہیں جی اُس نے کہ دیا ہم دل دکھانے پر بھی معافی مانگ رہے ہیں یہ صاحب۔اس لئے ہم معاف کر دیتے ہیں۔کمال ہے معافی کا تصور بھی اور انتقام کا تصور بھی۔جو عشاق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، وہ تو گردن زدنی ہیں تمہارے نزدیک اور جو خبیث گندے اور ناپاک حملے کرنے والے ہیں اور حدوں سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ان کے منہ کی جھوٹی معافی پر تم ان کو معاف کرنے کے لئے تیار ہوگو یا تم خدا بنے بیٹھے ہو۔تمہارے ہاتھ میں اس کی معافی اور اس کی اصلاح کا معاملہ ہے۔ہرگز تمہارے ہاتھ میں نہیں۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو غیرت ہمارے خدا کے دل میں ہے۔خدا رکھتا ہے محمد مصطفی کی غیرت۔وہ کبھی ایسے خبیث کو معاف نہیں کرے گا۔جس نے اس بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ دنیا کے سب سے مقدس انسان پر سب سے غلیظ حملے کئے۔تم ہوتے کون ہو معاف کرنے والے۔قطعاً طور پر نہیں دیتا اسلام۔یہ اسلام، احمدیت کی تعلیم نہیں اس تعلیم کے خلاف، تم