ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 251 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 251

251 اس کتاب کے خلاف قوی طور پر ایسے محرکات تھے جن کے نتیجے میں بعض حکومتیں اس کو اپنے ملک میں شائع کرنے سے خوف کھارہی تھیں۔چندلوگ پڑھتے اور کچھ دیر کے بعد کتاب ملک میں غائب ہو جاتی ، گر جاتی۔نہایت فضول قسم کی کتاب ہے۔شریف لوگوں کو زیادہ اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اب اتنی دلچسپی پیدا ہو رہی ہے کہ کروڑ ہا مغربی دنیا کا انسان اس کتاب کو لینے کے لئے ترس رہا ہے۔پورا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح وہ مہیا ہو جائے۔جب مسز تھیچر نے Spycatcher کے خلاف مہم چلائی تھی تو اُن کے ناقدین نے یہی بات کہی تھی کہ تم تو اس کتاب کو انگریز کی نظر سے اوجھل رکھنا چاہتی تھی یہ تمہاری مہم ہی ہے جس نے اس کو اتنی تقویت بخشی ہے لیکن وہ مہم تو پھر ایک معقول دائرے سے تعلق رکھتی تھی جو آپ مہم بے سروپا کریں تو وہ زیادہ تر آپ کو نقصان پہنچاتی ہیں دشمن کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔امریکہ میں ریڈیو اور ٹی وی پر اس گندی کتاب کے اقتباسات پڑھ کر سنائے گئے پس ایک نہایت غلیظ کتاب یہاں تک شہرت پاگئی کہ امریکہ میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اب اُس کے نہایت گندے اقتباسات جو دراصل مسلمان کی دلآزاری کا موجب تھے پڑھ کر سنائے جارہے ہیں۔یعنی کتاب خریدنے کی بھی ضرورت نہیں رہی وہ غلاظت اور وہ خباثت کروڑ ہا انسانوں تک گھر بیٹھے پہنچ رہی ہے۔تو انسان کو تو جوابی کارروائی حکمت سے کرنی چاہئے۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں کوئی معقول سلجھی ہوئی لیڈرشپ نہیں ہے اور وہ مولوی ہے اُس کو اتنی عقل بھی نہیں ہے کہ اسلام کے حق میں کس قسم کی تحریکات چلانی چاہئیں اور کس قسم کی تحریکات سے احتراز کرنا چاہئے اور سارا عذاب اس زمانے میں مسلمان پر یہ ملاں ہے جس کو دنیا کے حالات کی ، دنیا کی سیاست کی ، دنیا کی خدمتوں کی ہوش ہی کو ئی نہیں ہے وہ صرف وقتی طور پر ، ہر اس تحریک میں حصہ لیتا ہے جس کے نتیجے میں بے چینی پھیلے، Blood shed ہو ، خون ہو قتل و غارت ہو ، گالیاں دی جائیں اس کے سوا اس کو کوئی اہلیت نہیں رہی۔اس کا جو رد عمل یہاں پیدا ہو چکا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ابھی ہوگا۔وہRationalism کو تقویت ملے گی اور آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کے خلاف دیر تک اب وہ لوگ اس ناکام کوشش کے نتیجے میں جو انہوں نے کی ہے سازشیں کرتے رہیں گے، نئی قسم کی مصیبتیں کھڑی کرتے رہیں گے اور جو کچھ بھی سوسائٹی میں مسلمان نے ایک مقام حاصل کیا تھا اُس مقام سے گر کر کہیں پہنچ گیا ہے اور بے مقصد۔اگر کسی تحریک کے نتیجے میں مقام چھوڑ کر قعر مذلت میں بھی جانا پڑتا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو بحال کیا جاتا اور آپ کی حفاظت کی جاتی تو میں اس کے حق میں تھا، اور میں آج بھی اس کے حق میں ہوں ، ہمیشہ اس کے حق میں رہوں گا۔رشدی کی کتاب کے رد عمل پر مسلمانوں میں اختلاف لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی بجائے آپ کو دنیا میں اور زیادہ اور وسیع طریق پر گندی صورت میں پیش کرنے کے لئے ایک ذریعہ آپ بن جائیں اور خود قومی خود کشی بھی کریں یہ کس اسلام کے نتیجے