ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 250 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 250

250 اس پر کیا قدغن لگی تھی ؟ کیوں تمہارے سیاسی راہنماؤں نے ، کیوں تمہارے دانشوروں نے اُس ظالم انسان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا اور اُسے رد نہیں کیا اور کیوں اپنے عوام الناس کے سامنے تم نے یہ بات نہیں اُٹھائی کہ مسلمانوں کے دل بڑے حساس ہیں اس معاملے میں اور یہ شرافت کی اقدار کے خلاف بات ہے کہ ایسے لغو حملے کسی بزرگ کے متعلق کرنا جس کے اوپر قوم کے لکھوکھہا انسان جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور کروڑہا ہیں جو جانیں قربان کرنے کا دعوی تو ضرور کرتے ہیں لیکن لازما لکھوکھا ایسے ہیں جو عملاً ہنستے ہوئے اپنی جان فدا کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔یہ آگ سے کھیلنے والی بات ہے اس کو سمجھو۔تمہارے تعلقات ہیں، عالمی تعلقات ،مسلمانوں سے اُن کو نقصان نہ پہنچاؤ۔اگر شرافت کی خاطر نہیں تو اپنے مفاد کی خاطر اور عقلی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے تم اپنے طرز عمل کو تبدیل کرو۔اس قسم کی نصیحت کی باتیں کچھ رشدی کے خلاف باتیں کی ہوتیں اور عالم اسلام کو آپ یہ کہتے کہ ہمارے قانون سر دست ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اس کتاب کو بین (Ban) نہ کریں۔عالم اسلام کا رد عمل نسبتا زیادہ سلجھا ہوا ہوتا اور رشدی کی کتاب کے خلاف عیسائی دنیا سے باتیں سُن کر کچھ تو ان کے دل ٹھنڈے ہوتے۔لیکن یہاں آزادی زبان استعمال نہیں کی اور غلاظت کو تقویت دینے میں آزادی تقریر کی باتیں ہورہیں ہیں۔جس طرف بھی دیکھیں ایک غلط رد عمل ہے جس نے صورتحال کو انتہائی بھیا نک بنادیا ہے۔مسلمانوں کے غلط رد عمل سے اسلام کو بہت نقصان ہوا ہے مسلمانوں کے غلط رد عمل نے اتنا نقصان پہنچایا ہے اسلام کو کہ یہ کتاب اپنی ذات میں کبھی بھی اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔کتابوں کو لایا گیا، بھنگڑے ڈالے گئے ، گالیاں دی گئیں۔اس کے نتیجے میں یہ لوگ اس تاریخی پس منظر میں کہ اسلام جہاد کی تعلیم دیتا ہے، غیر کو قتل کرنے کی تعلیم دیتا ہے، غلط افسانے اپنے ذہنوں میں بنا بیٹھے۔یہاں انگلستان میں عامۃ الناس سے آپ بات کر کے دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے اُن کا یہ تصور ہے کہ اسلام، مسلمان یہاں اب ہر غیر کی گردن کاٹنے کے لئے تیار بیٹھا ہوا ہے اور ہماری سوسائٹی میں بدامنی پھیل جائے گی اور عذاب نازل ہو جائے گا اور ہم برداشت نہیں کر سکیں گے حالانکہ کل ایک ملین کی تعداد ہے مسلمان کی اور ان کا جوش جتنی تیزی سے اُٹھتا ہے بدقسمتی سے اُسی تیزی سے بیٹھ بھی جاتا ہے۔صرف دائم رہنے والی نفرتیں پیچھے چھوڑ رہے ہیں اور اسلام کے حق میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔مسلمانوں کے غلط رد عمل سے اس کتاب کی تشہیر بہت زیادہ ہوگئی لیکن اس سے بہت زیادہ نقصان یہ پہنچا ہے کہ وہ کتاب جو اپنی ذات میں شدید پراپیگنڈے کے باوجود بھی مقبول نہیں ہورہی تھی اور بعض ممالک اس کو رد کر چکے تھے ، انگلستان اس کو رد کر چکا تھا بغیر کسی احتجاج کے ، جاپان اس کورد کر چکا تھا بغیر کسی احتجاج کے۔انہوں نے کہا ہم ہرگز اس کا ترجمہ اپنے ملک میں شائع نہیں ہونے دیں گے اور