ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 249
249 کے متعلق بھی بعض دفعہ ایسی ایسی لغو باتیں چھپ جاتی ہیں کہ کوئی غیرت مند عیسائی دراصل اُس کو برداشت نہیں کر سکتا مگر غیرت اگر کم ہو جائے تو کیا کیا جائے؟ مسلمان تکلیف اُٹھاتے ہیں۔احمدی تکلیف اُٹھاتے ہیں مسلمان کی حیثیت سے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام کو عیسائی ملکوں میں بھی گالیاں دی جاتی ہیں۔ان کا تصور بگڑا ہوا ہے اور پھر جنسیات نے اتنا قبضہ کر لیا ہے ان کے دماغ پر کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ناول میں جنسی چٹکلے چھوڑ نا تو ضروری ہو گیا ہے اس کے بغیر ناول مزیدار ہو ہی نہیں سکتا۔جہاں تقدس کا تصور مٹ چکا ہو، جہاں جنسیات قوم کے مزاج پر غالب آچکی ہو وہاں ایسی کتاب جس میں مقدس ہستیوں پر حملہ کیا گیا ہے اور جنسی پہلو سے حملہ کیا گیا ہے وہ ان کے نزدیک ایک دلچسپ ناول ہے اس سے زیادہ کچھ بھی حیثیت نہیں۔ان کو بتانا چاہتے کہ مسلمانوں کی طرز فکر تم سے مختلف ہے۔ہمارے جذبات اور ہیں، ہماری قدریں اور ہیں۔ہمیں سمجھنا ہو تو اپنی عیسائیت کی چھلی صدیوں میں جا کر دیکھو۔تم انہیں جہالت کی صدیاں کہہ کے رد کر رہے ہو۔ہم سمجھتے ہیں اس وقت تھوڑی سی غیرت کی روشنی تم میں موجود تھی جواب تم میں نہیں ہے۔ایک پہلو سے تم روشنی میں داخل ہوئے ہو، دوسرے پہلو سے تاریکی میں قدم بڑھا رہے ہو۔پس مذہبی پہلو سے اور تقدس کے تصورات کے لحاظ سے تم روشنیوں سے اندھیرے میں سفر کر رہے ہو۔اس زمانے میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اس کے ہزارویں حصے کو برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا جتنا اب کھلم کھلا روز ٹیلی ویژن ، اخبارات میں کہا جاتا ہے۔تو یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے خود اپنے بزرگوں کو جسے خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں اُس پہ حملے کی کھلی اجازت دی ہوئی ہے تو مسلمان کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے کہ جن کو ہم نبی بھی نہیں سمجھتے ، اُن کے اوپر ہم نہ حملہ کریں۔مغرب کا دوہرا معیار یہ وہ تضادات ہیں جو سمجھانے والے ہیں اور بتانے والے ہیں اور خوب بات کھولنی چاہئے کہ یہ وجوہات ہیں جس طرح ان کی پارلیمنٹ کا حوالہ ہے، بعض تہذیبی اقدار کا حوالہ ہے۔یہ بتانا چاہئے کہ قوموں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لئے بعض تہذیبی تقاضے تمہیں پورے کرنے ہوں گے۔عالم اسلام ایک بڑی طاقت ہے اور آج جبکہ دنیا بدامنی کا گہوارہ بنی ہوئی ہے یہاں امن پیدا کرنے کے لئے تمہیں عقل اور سلیقہ اختیار کرنا چاہئے اور ایسی طرز اختیار کرنی چاہئیں کہ بلا وجہ کسی قوم کا دل نہ دکھے۔یہ سمجھانے کا عصر اس تمام تحریک میں غائب رہا ہے۔چنانچہ جب ہالینڈ میں مجھ سے پریس انٹرو یولیا گیا اور وہاں اور یہاں میں ایک فرق میں نے یہ دیکھا۔یہاں آج کل اسلام کے حق میں معقول باتیں اور سمجھانے کی باتیں کی جائیں تو اُن کو پریس والے شائع ہی نہیں کرتے۔اور ہالینڈ اس لحاظ سے بالکل آزاد تھا۔اُنہوں نے نہایت عمدگی اور دیانتداری سے اس انٹرویو کوریڈیو میں بھی مشتہر کیا اور اخبارات میں بھی شائع کیا اور اُنہوں نے بتایا کہ کیا ہمیں اعتراض ہے، کیوں اعتراض ہے، کیا کرنا چاہئے ؟ میں نے اُن سے کہا کہ تم لوگ زبان کی آزادی کے علمبرار ہو۔کیا تمہاری آزاد زبان ایک بیہودہ بات کو رد کرنے کے لئے استعمال نہیں ہو سکتی تھی ؟