ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 248 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 248

248 ہے اُسے ایک طرف چھپائے ہوئے ہیں۔اسلام یہ قانون دے رہا ہے کہ تم نے دوسرے مذہبوں کی عزت کرنی ہے اور خبر دار جو اس قانون کو پامال کیا اور اس مذہب کو کہتے ہیں بہت ہی تنگ نظر اور جاہلانہ اور فرسودہ مذہب ہے اوران کے ہاں صرف اپنے بزرگوں کی حفاظت کا قانون ہے اور جب اُن سے کہا جائے کہ دوسرے بزرگوں کی عزت کرو تو کہتے ہیں کہ آزادی ضمیر ، آزادی تقریر کے مخالف بات ہے۔مجھ سے جب پریس انٹرویو ہوئے کچھ یہاں۔یہاں تو بعض معززین کی دعوت میں سوال ہوا تھا۔ہالینڈ میں کئی پریس انٹرویو ہوئے اُن کے سامنے میں نے یہ مسئلہ رکھا میں نے کہا آزادی تقریر اپنی جگہ درست ہے لیکن آپ کا عمل، یورپ کے سیاستدان کا عمل بتا رہا ہے کہ یہ بے محابا نہیں ہے اور بے حد نہیں ہے۔جب آزادی تقریر بعض حصوں میں، بعض سرحدوں سے گزرنے کی کوشش کرتی ہے تو آپ اُس پر قدغن لگاتے ہیں ، اُس کی راہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے کہا جس انگلستان میں آجکل شدت کے ساتھ سلمان رشدی کی کتاب کی تائید میں باتیں ہو رہی ہیں اور آزادی تقریر کے نام پر ہو رہی ہیں۔وہاں کی پارلیمنٹ میں اگر مسز تھیچر یا اور پارلیمنٹ ممبروں کے خلاف ویسی ہی خبیثا نہ زبان استعمال کی جائے جیسی اس کتاب کے مصنف نے دنیا کے مقدس ترین بزرگوں کے متعلق استعمال کی ہے تو کیا آزادی تقریر کے نام پر آپ یہ زبان برداشت کریں گے۔کیا انگلستان کی پارلیمنٹ اس کو اجازت دے گی ؟ ایسے شخص کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے گندے الفاظ خود کھا جائے۔ورنہ اُسے اٹھا کے ایوان سے باہر پھینک دیا جائے گا تو وہاں آزادی تقریر کا حق کیوں یاد نہیں آتا؟ اس لئے کہ آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ آزادی تقریر کا حق غیر محدود نہیں ہوسکتا۔بعض دائروں میں اسے محدود کرنا ہوگا اور اسمبلی کا دائرہ اُن دائروں میں سے ایک ہے۔مذہب کا دائرہ اس سے زیادہ حقدار ہے کہ وہاں اس حق کو اس حد تک محدود کیا جائے کہ کسی پر ظالمانہ قہقہے نہ لگائے جائیں۔پس یہ جھوٹ ہے کہ آزادی ضمیر کی ، آزادی تقریر کی حفاظت کی جارہی ہے۔بیچ میں سے وہ بہت خوش ہیں کہ خوب ہمیں موقع ملا ہے عالم اسلام سے بدلہ لینے کا اور ان کو دُکھ پہنچانے کا اور تہذیب کے نام پر کسی کو دکھ دینا یہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے عالم اسلام کو دکھ پہنچے۔مسلمانوں کو کثرت سے اسلام کی تائید سیرت رسول پر مضامین لکھنے کی تحریک ایک پہلو تو اس کا یہ ہے جو آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو اس صورتحال کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایسی کثرت کے ساتھ مضامین لکھتے اور صورتحال کو واضح کرتے اور یہ جو درمیانی طبقہ ہے، جو لاعلم طبقہ یہ اس وقت اس جھوٹے پراپیگنڈے کی لپیٹ میں کلیہ آچکا ہے۔یہ اس لئے ان باتوں کو نہیں سمجھتے کہ ایک تو جیسا کہ میں نے بیان کیا آزادی تقریر کا تصور غلط رنگ میں ان کے سامنے رکھا گیا ہے۔دوسرے دو کمزوریاں اس وقت مغربی قوموں میں جاگزین ہو چکی ہیں۔گہرے طور پر ان میں جڑیں پکڑ چکی ہیں۔ایک بے حیائی اور دوسرے مذہب سے دوری۔چنانچہ یہاں حضرت عیسی علیہ السلام