ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 247 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 247

247 تمہارے خلاف گالیاں دیں پھر تمہیں اعتراض کا کوئی حق نہیں ہو گا۔پھر انہوں نے اگر تمہارے خدا کو، تمہارے بزرگوں کو گالیاں دیں تو تم نے خود اُن کو دعوت دی ہوگی کہ آؤ اور ایسا کرو۔تو کتنی حسین تعلیم ہے اسلام کی جو ضمیر کو آزاد بھی کرتی ہے لیکن بھٹکنے سے بھی روکتی ہے۔مغرب والوں کے نزدیک آزادی ضمیر و تقریر کا تصور اب مغرب نے جو اختیار کیا ہے اپنے دفاع کا طریق وہ یہ ہے کہ ہم آزادی ضمیر اور آزادی تقریر پر کسی قیمت پر حملہ نہیں ہونے دیں گے اور کہتے ہیں کہ سلمان رشدی نے جو کچھ لکھا ہے ہم اس میں اس لئے دخل نہیں دے سکتے کہ ہمارے ملک میں آزادی تقریر ہے۔تمہارے ممالک میں بدتہذیبیاں ہیں، جہالتیں ہیں، تعصبات ہیں، تمہارا مذہب ایسا ہے کہ جو دوسرے کی زبان بندی کرتا ہے اس لئے تم لوگ یہ سمجھ نہیں سکتے کہ انسانی ضمیر کی آزادی کہتے کس کو ہیں۔ہمیں دیکھو ہم ان قدروں کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔جن قدروں کا سچا حقیقی علمبر دار اسلام تھا ان قدروں کی غلط صورتوں کے یہ علمبر دار بنے اور اپنے آپ کو دنیا کی عظیم ترین تہذیب کا محافظ اور پیغامبر بنائے ہوئے ہیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جس چیز کی یہ حفاظت کر رہے ہیں وہ بالکل اس کے برعکس ہے جو اسلام نے تعلیم دی تھی۔اب تجزیہ کر کے دیکھیں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اے مسلمانو تم دوسروں کے بزرگوں کو خواہ وہ سو فیصدی جھوٹے بھی ہوں بُرا بھلا نہ کہو اور اس میں ہم تمہیں آزادی نہیں دیتے۔یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں آزادی کا تصور یہ ہے کہ دوسروں کے بزرگوں کو خواہ وہ کروڑہا کروڑ انسانوں کے نزدیک صاحب عظمت ہوں بُرا بھلا کہو اور نہایت غلیظ زبان میں بُرا بھلا کہو یہ ہے آزادی ضمیر کا تصور اور یہ ہے انسانی آزادی کا تصور۔کیا دوسری طرف ضمیر کوئی نہیں ہے؟ کیا زبان کو آزادی ہے اور کانوں کو کوئی آزادی نہیں ہے؟ کیا زبان کا حق ہے اور کان کا نہیں؟ کیا یہ حقوق ایک سمت سے دوسری سمت میں روانہ ہوتے ہیں اور دوسری سمت کا کوئی بھی خیال تمہیں نہیں ہے۔یہ عدم توازن ہے جس کو مسلمانوں کو کھول کر اُن کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور پھر یہاں پر ایک دوغلا پن ہے۔ایک تضاد ہے ان کے اپنے عمل میں۔بلاسفیمی کا قانون صرف عیسائیوں کے لئے ہے بلا شیمی (Blasphemy) کا ایک قانون ہے جو اس ملک میں رائج ہے لیکن وہ صرف عیسائیت کے لئے ہے۔اب دیکھیں یہاں اسلام اور عیسائیت کا کتنا نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ان کا جو قانون ہے وہ یہ ہے اور اُس کو حج میڈلاء (Judge Made Law) کہتے ہیں یعنی پارلیمنٹ نے تو یہ قانون نہیں بنایا مگر روایت چلا آرہا ہے جس کو عدالتوں نے تقویت دی اُس کی توثیق کی۔وہ قانون یہ ہے کہ عیسائیت کے خلاف اور حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی ایسی زبان برداشت نہیں کی جائے گی جو تضحیک کا رنگ رکھتی ہو تذلیل کا رنگ رکھتی ہو، اُس میں فاسقانہ لفظ استعمال کئے گئے ہوں۔وہاں آزادی ضمیر کہاں گئی ، وہاں آزادی تقریر کہاں چلی گئی؟ اپنے ملک میں قانون رائج ہے، موجود