ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 4
4 "مسلمانوں پر عام طور پر یاس و ناامیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا۔1857ء کی جد و جہد کے انجام اور مختلف دینی اور عسکری تحریکوں کی ناکامی کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لوگ مایوس ہو چکے تھے اور عوام کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور اہم اور مؤید من اللہ کی آمد کے منتظر تھی۔" ( قادیانیت صفحه 16 ، 17 از مولینا سید ابوالحسن ندوی) اخبار وکیل 15 جنوری 1927 ء میں لکھا ہے۔اس مرض کا حدوث آج سے نہیں بلکہ آج سے بہت پہلے شروع ہو چکا ہے۔مسلمانوں نے پہلے زندگی میں یہود اور نصاری کی اتباع کی اور اب اجتماعی زندگی میں کرنے لگے اس کا نتیجہ تمنیخ خلافت ہے۔" مولویوں کا مشہور اخبار "الجمعیۃ " دہلی 4۔اپریل 1926 لکھتا ہے۔"دفعہ پردہ اٹھ گیا دنیا کو صاف نظر آ گیا کہ امت مسلمہ اگر کسی مجتمع شیرازہ اور کسی بندھی ہوئی تسبیح کا نام ہے تو آج صحیح معنوں میں امت مسلمہ ہی موجود نہیں ہے بلکہ منتشر اوراق ہیں۔چند بکھرے ہوئے دانے ہیں، چند بکھری ہوئی بھیڑیں ہیں جن کا نہ کوئی ریوڑ ہے اور نہ گلہ بان۔" زمیندار اخبارا اپنی 18 ستمبر 1925ء کی اشاعت میں مسلمانان ہند کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے۔" تم کہلاتے تو میری امت ہو مگر کام یہودیوں، بت پرستوں کے کرتے ہو۔تمہارا شیوہ وہی ہورہا ہے جو عاد اور ثمود کا تھا کہ رب العالمین کو چھوڑ کر بعل، یغوث ، نصری اور یعوق کی پرستش کر رہے ہو۔تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو میری توہین کرتے ہیں۔" اخبار "البشیر "اٹاوہ ستمبر 1925 لکھتا ہے۔"بعثت پیغمبر آخرالزمان کے وقت عیسائیوں اور یہودیوں میں جو فرقہ بندی تھی ان کی تاریخ اٹھا کر پڑھو اور پھر آجکل کے علماء اسلام کا ان سے مقابلہ کرو تو صاف طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ آج بہت سے علماء اسلام کی جو حالت ہے وہ فوٹو ہے اس زمانہ کے علماء یہود اور نصاریٰ کا۔" مسلمانوں کی زبوں حالی پر شعراء کی نوحہ خوانی جہاں تک مسلمان شعراء کا تعلق ہے مسلمانوں کی زبوں حالی پر ان کے اشعار بڑے ہی دردناک ہیں۔مولانا الطاف حسین حالی نے نوحہ کہا ہے۔پھر شکوہ اور جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے جس طرح ذکر کیا ہے ایک لمبی کہانی ہے۔ان کے علاوہ ابو الخیر نواب نورالحسن خان صاحب نواب صدیق حسن خان صاحب جیسے اکابرین سلف اور بزرگان امت نے بھی اسلام کی اس مردنی پر نوحہ پیٹا اور لکھا ہے یہ کیفیت یہود و نصاری پیدا ہوگئی ہے۔