ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 246
246 کے خلاف ہیں، کچھ نفرتیں ہیں جونئی شکل میں سر اٹھاتی رہتی ہیں اور اب اس شکل میں اس پرانی دیرینہ نفرت نے دوبارہ سراٹھالیا ہے اور ثمینی صاحب اس کو انگیخت کرنے میں ایک ذریعہ بن گئے۔بزرگوں پر حملہ ہو تو اسلام جوابی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا قرآن کریم دفاع کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ ہر مسلمان پر واجب قرار دیتا ہے اور ہر سرحد پر گھوڑے باندھنے کی تلقین کرتا ہے۔خواہ وہ نظریاتی سرحد ہو، خواہ وہ جغرافیائی سرحد ہو لیکن اسلام بعض قسم کی جوابی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا اور بعض قسم کے حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔اُن میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کے بزرگوں کے اوپر حملہ کیا جائے، کسی کا دل دُکھایا جائے۔چنانچہ وہ آیت جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے یہ اصل اسلامی تعلیم ہے۔فرما يا وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلم یعنی آزادی تقریر اپنی جگہ ہے۔لا إكراه في الدين (البقرہ: 257) کا حکم اپنی جگہ ہے لیکن مسلمان کی زبان پر پابندی لگا رہا ہے، اسلام اور غیروں پر حملے کرنے کے لحاظ سے پابندی لگا رہا ہے۔اس مذہب کو یہ ایک آمرانہ اور بہیمانہ مذہب کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جرات کرتے ہیں۔کوئی شرم کوئی اخلاقی اقدار کا خیال تک نہیں ہے۔ان کو ان کے مستشرق جو واقعہ اسلام کے نقلی علوم پر دسترس کرتے ہیں اُن کے سامنے ساری باتیں موجود ہیں۔قرآن جانتے ہیں ، قرآن کے تراجم کئے ہوئے ہیں ان لوگوں نے لیکن اس آیت کو یہ کبھی بھی اسلام کے دفاع میں پیش نہیں کریں گے۔آزادی ضمیر و آزادی تقریر کا حق سب سے زیادہ اسلام نے دیا سوال یہ ہے کہ آزادی ضمیر کا حق سب سے زیادہ اسلام نے قائم کیا ہے اور آزادی تقریر کا حق بھی اسلام بڑی شان کے ساتھ مسلمانوں کو اور ساری دنیا کو دیتا ہے لیکن بعض جگہ شرافت کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔اُن حدود میں آزادی کے نام پر داخل ہونے کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور تعلیم ایسے خوبصورت رنگ میں پیش کرتا ہے کہ غیروں کو نہیں روکتا کہ تم حملے نہ کرو بلکہ مسلمانوں کو روکتا ہے کہ تم غیروں کے مقدس لوگوں پر حملے نہ کرو۔اس تعلیم کو اگر مسلمان ممالک نے اپنایا ہوتا تو کبھی یہاں تک نوبت نہ پہنچ سکتی۔اگر پہنچتی بھی تو دنیا کے منہ پر وہ یہ باتیں مار سکتے تھے کہ ہم تو تمہارے مقدس بزرگوں کی عزت کی حفاظت کرتے ہیں۔اُن کی بھی ہم حفاظت کرتے ہیں جن کو ہم سچا سمجھتے ہیں۔وہ تو ہم نے کرنی ہی تھی لیکن اُن کی بھی کرتے ہیں جن کو ہم سچا نہیں سمجھتے اور سینکڑوں ایسے غیر مذاہب کے بزرگ ہیں جن کی احمدیت کی نظر میں تو اس وجہ سے عزت ہے کہ ہم اسلامی عمومی تعلیم کی رو سے اُن کو سچا سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے اکثر فرقے اُن کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور اُن کے لئے بعض دفعہ عزت کا لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اس قرآنی تعلیم کی رو سے جن کو وہ جھوٹا سمجھتے تھے اُن کی عزتوں کی حفاظت کرتے کیونکہ قرآن کریم نے تو یہاں تک فرمایا کہ جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو۔اس سے زیادہ بہتر اور کیا تصور ہوسکتا ہے۔بزرگوں کی تعلیم ان مذاہب کے بزرگوں کی عزت کرنا تو اس کے نیچے ہے جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہیں دینی۔فرمایا کہ اگر ایسا کرو گے تو پھر اگر انہوں نے