ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 245
245 خلاف جو یہ ہمیشہ سے پھوڑے دل میں پکتے رہے ہیں کہ اسلام کو نیچا دکھایا جائے اور تیسری دنیا کے ممالک کو خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم اُن کو پوری طرح اپنے استبداد کے نیچے رکھا جائے۔اس بات کو ثمینی نے الٹایا ہے اور یہ ہے اصل راز ان کی تکلیف کا۔ورنہ جہاں تک خمینی صاحب کے بھیانک اسلامی تصور کا تعلق ہے اس کا تمام تر نقصان اسلام کو پہنچا ہے۔میں ان کے سامنے یہ بات بار بار کھولتارہا ہوں ہر پریس کانفرنس میں کہ جتنا ٹینی نے آپ کو فائدہ پہنچایا ہے بڑے ہی آپ ناشکرے ہیں جو اس بیچارے کے پیچھے پڑگئے ہیں۔اس نے وہ جنگ لڑی اور اتنا لمبا عرصہ تک لڑی جس کے نتیجے میں تمام عرب دنیا کی اور ایران کی تیل کی دولت یعنی مسلمان دنیا کی تیل کی طاقت اُس کا اکثر حصہ کہنا چاہئے وہ بیہودہ اور ذلیل ہتھیاروں کے بدلے میں ان کو ملتی رہی دولت، طاقت نہیں کہنا چاہئے تیل کی دولت۔اسلامی دنیا کے تیل کی دولت مغربی دنیا کو بعض بوسیدہ اور گھٹیا ہتھیاروں کے بدلے عملاً مفت ملتی رہی ہے۔میں جب یہ کہتا ہوں تو علم کی بنا پر کہ رہا ہوں۔خمینی کی طرف سے رشدی کے قتل کے فتویٰ سے اسلام مزید بد نام ہوا چنانچہ جب ثمینی صاحب نے اس خبیا نہ کتاب کے اوپر سلمان رشدی کے قتل کا حکم جاری کیا تو ان کا رد عمل غیر متوازن اور نہایت ہی شدید تھا۔ایک تو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع ان کو ہاتھ آ گیا دوبارہ، لیکن اُس سے قطع نظر انہوں نے ساری دنیا میں شور مچایا کہ انسان کی تقریر کی آزادی کا حق اتنی بڑی عظمت ہے تہذیب نو کی ، کہ ہم اس پر حملہ برداشت نہیں کر سکتے۔کون ہوتا ہے زبان کے چرکوں کے نتیجے میں جسم پر چر کے لگانے والا اور پھر اعلان کر رہا ہے ہمارے ملک کے ایک باشندے کے خلاف۔اب سلمان رشدی کے حق میں اتنا شدید ردعمل کہ اچانک سارا یورپ متحد ہو جائے اور امریکہ کی پوری طاقت بھی اس کی پشت پناہی کرنے لگے اور اپنے سیاسی سفارتکار اُن ملکوں سے اچانک بلالیں اور ان کے سفارتکار بھجوادیں۔یہ سوچنے والی بات ہے کون سی اس بات میں معقولیت ہے۔جبکہ خودان کے اپنے ملک میں احمدیوں کے خلاف قتل کے اعلانات کئے گئے ، اخباروں میں چھپے اور میرے سر کی چالیس ہزار پاؤنڈ قیمت ڈالی گئی اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ابھی حال ہی میں ایک So called عالم یعنی جو عالم کہلاتے ہیں دنیا میں وہ تشریف لائے اور انہوں نے بیان دیا کہ ہر احمدی واجب القتل ہے۔اس لئے ان کا علاج صرف یہی ہے کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔وہ اخبار میں خبر شائع ہوئی۔کسی احمدی نے ہوم آفس کو بھجوائی اُن کی طرف سے جواب آیا کہ ابھی تک ہم اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا کوئی جرم انہوں نے کیا ہے یا نہیں کیا۔جس قوم کے ان اعلانات پر یہ رد عمل ہو جو ان کے ملک میں ایک آدمی کے خلاف نہیں بلکہ پوری جماعت کے خلاف دیئے جارہے ہیں جو معصوم ہے جس نے کوئی بدی نہیں کی، کوئی قانون نہیں تو ڑا کسی کا دل نہیں دکھایا اُن کا رد عمل ثمینی کے متعلق اتنا شدید کہ اس نے قتل کا فتویٰ دے دیا ہے یہ صاف بتا رہا ہے کہ سیاست کھیلی جارہی ہے۔اس میں اخلاقیات والا حصہ اور ضمیر کی آزادی والا حصہ محض ایک دکھاوا ہے۔کچھ انتقامات ہیں، کچھ پرانے جذ بے اسلام