ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 242 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 242

242 بالکل بیباک ہو گیا اور معلوم ہوتا ہے یہی اس کو کہا گیا تھا کہ ایسی کتاب لکھو جو انتہائی بے باکی کے ساتھ مغربی دنیا پر سے اسلام کا ہر قسم کا اچھا تصور مٹادے اور یہ جو دوبارہ اسلام کا عروج ہورہا ہے اور اسلام طاقت پکڑ رہا ہے اس کو اس قسم کے لٹریچر کے ذریعے کلیہ مغربی اثرات سے زائل کر دیا جائے ، مٹا دیا جائے اور وہ بھیانک تصور جو اسلام کا گزشتہ صدیوں میں پایا جاتا تھا وہ پوری قوت کے ساتھ دوبارہ واپس آ جائے اور اُسی تصور کے نتیجے میں پھر ہم اسلام کی وہ کوششیں جو یورپ اور مغرب کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی ہو رہی ہیں اُن کو نا کام اور نامراد کر دیں۔یہ سازش کا پس منظر معلوم ہوتا ہے۔مثلاً ایک بات ایسی ہے جو ایسے اس قسم کے مصنف کے ذہن میں آ ہی نہیں سکتی از خود۔جو ایسی بات ہے جس کا اسلام اور عیسائیت کے دلائل کے مقابلے میں اُس کو ایک بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اس کا آغاز ہوتا ہے حضرت اقدس اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے۔حضرت اسماعیل کے متعلق بیہودہ سرائی مسلمانوں کا مؤقف یہ رہا ہے ہمیشہ سے چونکہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اس لئے وہ روحانی ورثہ جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دی گئی تھی اُس ورثہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُسی طرح شامل ہیں اور آپ کے متعلق وہ مبارک پیشگوئیاں بائیل میں موجود ہیں اُن کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔یہ موقف ہے جو مسلمان ہمیشہ سے آغاز اسلام سے لے کر اب تک لیتے رہے ہیں۔اس پر عیسائیوں نے بارہا اپنے دلائل میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حضرت ہاجرہ چونکہ با قاعدہ منکوحہ بیوی نہیں تھیں اور ایک لونڈی تھیں جن سے ازدواجی تعلقات کی حضرت سارہ نے اُن کو اجازت دے دی تھی۔اس لئے یہ اولاد جائز اولاد نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اس نوعیت کی جائز اولاد نہیں کہ وہ روحانی ورثہ پاسکے۔یہ بحث ہے جو لمبے عرصے سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان چلتی چلی آئی ہے اور خصوصیت کے ساتھ احمدی لٹریچر نے جس کا نوٹس لیا اور نہایت قطعی اور مضبوط دلائل سے ہمیشہ عیسائی پادریوں اور متقین کے منہ بند کئے ہیں کہ اُن کی دلیل میں کوئی جان ، کوئی قوت نہیں، محض ایک بیہودہ سرائی ہے اس سے بڑھ کر اُس کی کوئی حیثیت نہیں۔اب یہ شخص سلمان رشدی دہر یہ بھی ہو لیکن پیدائشی طور پر اسلام کا دشمن تو نہیں سمجھا جا سکتا اس کو، اور اتنا گہرا مطالعہ اس کا کہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان وہ بنیادی چیزیں کون سی ہیں جن پر اسلام اور عیسائیت کے دلائل کی فتح و شکست کا انحصار ہے۔یہ ایسے شخص سے توقع نہیں رکھی جاسکتی اور وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ اس کا کوئی ایسا مطالعہ نہیں۔چنانچہ اپنے مطالعہ کی بنیاد کے طور پر طبری کو پیش کرتا ہے اور طبری میں تو ایسا کوئی ذکر نہیں۔یقیناً ایسے عیسائی گروہوں کی طرف سے اس کتاب کا مواد اس کو مہیا کیا گیا ہے جو اسلام کی جڑوں پر دُور تک حملہ کرنا چاہتے ہیں، جو تاریخ میں بہت دور تک گہری دبی ہوئی ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے تک وہ اتر جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت اسماعیل کے متعلق وہ بات اس طرح شروع کرتا ہے کہ ناجائز اولاد کہتا ہے اور پھر نہایت ہی غلیظ نا قابل برداشت لفظ استعمال کرتا ہے اُن کے لئے۔