ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 243
243 رشدی کے آنحضرت اور صحابہ پر حملے اگر لامذہب آدمی ہو تو دوسرے انبیاء پر بھی حملے کرتا لیکن اُس کے حملے خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد پر اور اُن بزرگوں پر ہیں جن کی اسلام میں خاص اہمیت ہے۔لیکن آگے جا کر جب صحابہ کے دور میں اس کے حملوں کا میں نے جائزہ لیا تو ایک عجیب یہ بات سامنے آئی کہ امہات المؤمنین پر حملے تو سمجھ آتے ہیں یہ خبیث لوگ ہمیشہ اس طرح کرتے چلے آئے ہیں لیکن حضرت سلمان فارسی کو کیوں خاص طور پر اپنی خباثت کا نشانہ بنایا گیا ؟ اُس وقت یہ دوسرا نقط سمجھ آیا کہ چونکہ ایران کے ساتھ آجکل ان قوموں کی بے انتہاء دشمنی چل رہی ہے اور یہ مجھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ایران شکست کھا گیا ہے لیکن اُس نے مغرب کی بالا دسی کو تسلیم نہیں کیا۔چاہے احمقانہ طور پر جوابی حملے کئے ہوں، اپنا نقصان کیا ہو، خود کشی کی ہو لیکن چوٹ مارنے سے باز نہیں آیا اور اپنا سر نہیں جھکایا مغرب کے سامنے۔یہ چیز ان کی انا پر ایسے عذاب کا موجب بنی ہوئی ہے کہ ہر دوسری چیز کو معاف کر سکتے ہیں، ثمینی کو معاف نہیں کر سکتے اور ایرانی کو معاف نہیں کر سکتے۔اس لئے چونکہ حضرت سلمان فارسی وہ اکیلے صحابی تھے جو ایک بہت صاحب عظمت تھے اور ایرانی تھے اس لئے اُن پر حملے سے یہ سمجھے، اُن کی سکیم بنانے والے کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ حملہ جو ہے یہ ایران کو تکلیف پہنچائے گا اور اُس کو خاص طور پر چوٹ لگے گی اور ایسا ہی ہوا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بھی حملہ ہے لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ حملہ شائد شیعوں کو تکلیف نہ پہنچا سکے۔اس لئے دوسرا آدمی سلمان فارسی چنا گیا ہے۔ابو بکر بھی اپنے جاسکتے تھے، عمر بھی چنے جاسکتے تھے، عثمان اور علی بھی چنے جاسکتے تھے۔ان سب کو چھوڑ کر سلمان فارسی کا انتخاب بتاتا ہے کہ یہ ساری کتاب ایک گہری سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ یہ ایک ایسا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو وہاں وہاں چوٹ لگاتا ہے جہاں یہ چوٹ لگانا مقصود ہے۔پس یہ کتاب جو ایک غلاظت کی پوٹ ہے، یہ محض ایک غلاظت کی پوٹ نہیں بلکہ نشانے کے ساتھ یہ غلاظت مقدس چہروں پر ماری گئی ہے اور اس نیت ، اس ارادے کے ساتھ پھینکی گئی ہے کہ کثرت کے ساتھ اہل اسلام کے دل دیکھیں اور بے چین اور بے قرار ہوں اور کچھ نہ کر سکیں۔اس کا ایک ایرانی پس منظر بھی ہے اور کچھ یہ بھی کہ گزشتہ کچھ سالوں سے تقریباً پندرہ میں سال سے کم سے کم مغربی ملکوں نے ایک دوغلی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ اُن مسلمان ممالک کے دوست ہیں اور اُن کو تقویت پہنچاتے ہیں جو اسلام کے متعلق ایسے متشددانہ رویے رکھتے ہیں اور جبر اور استبداد کی تعلیم کے قائل ہیں۔یہ اس لئے ہے تاکہ اپنے ملکوں میں وہ اسلامی نظریے کا سہارا لے کر اشتراکیت کو کچلیں اور مغربی دشمن طاقتوں کو بھی اسی تلوار سے قتل کریں اور ختم کریں۔مغربی طاقتوں کا اسلام پر حملہ کہ یہ جبر و تشدد سے پھیلا ہے یہ اُن کا منصوبہ ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب وہ اپنے ممالک میں اسلام کے نام پر مظالم کریں تو مغربی دنیا میں بھی ان مظالم کو اچھالا جائے اور اسلام کی ایک نہایت بھیانک تصویر پیش کی جائے۔پس جہاں ایک طرف سعودی