ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 241
241 جرم میں احمدیوں کے خلاف شدید تحریکات چلائی گئیں اور اس کے مقابل پر ان لغو اور بیہودہ روایات کو تسلیم کر لیا گیا۔اُن روایات پر بنا کر کے اُس نے ایک ناول لکھا اور زبان نہایت غلیظ اور بازاری اور سوقیانہ، ایسی غلیظ زبان کہ جو ہماری بعض گلیوں میں بداخلاق بچے روز مرہ گندی زبان استعمال کرتے ہیں اُس سے ملتی جلتی زبان ہے۔جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق، آپ کی ازواج کے متعلق اور دیگر بزرگوں کے متعلق استعمال کی گئی۔مجھے جو پہلی دفعہ اس کتاب کی طرف متوجہ کیا گیا۔یہ تو مجھ میں طاقت نہیں تھی کہ ساری کتاب کا مطالعہ کر سکتا لیکن بعض متفرق احمدی دوستوں کو میں نے اس کام پر مقرر کیا کہ وہ ایسے خاص پیرا گراف ، ایسے خاص حصے کتاب کے نمایاں کر کے، اُن پر نشان لگا کر میرے سامنے پیش کریں جن سے پتہ چلے کہ یہ کیا کہنا چاہتا ہے، کیوں کہنا چاہتا ہے اور اس کتاب کے پس منظر میں کوئی سازش ہے یا کوئی انفرادی کوشش ہے؟ گواُن حصوں کا مطالعہ بھی ایک روحانی عذاب تھا لیکن اُن کے مطالعہ سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ یہ کتاب ایک شخص کی انفرادی کوشش کا نتیجہ یقینا نہیں ہے۔سلمان رشدی کو اسلام کے خلاف استعمال کیا گیا ہے سلمان رشدی جیسا شخص جس کا مذہب سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں جو ایک دہر یا نہ ماحول میں پیدا ہوا، اُسی ماحول میں اُس نے پرورش پائی اور پھر انگلستان میں کم عمری میں ایسی عمر میں آیا جب یہ دنیا کی بیہودگیوں اور لذتوں میں پوری طرح ملوث ہو گیا۔مذہب سے اس کا کوئی رشتہ، کوئی تعلق نہیں۔وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ مجھے کوئی ذاتی علم مذہب کے متعلق نہیں ہے۔اس کا اس باریکی کے ساتھ سارے وہ نکات تلاش کر لینا جو دشمنان اسلام، عیسائی دشمنان اسلام خصوصیت کے ساتھ اسلام پر حملے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے یہ کوئی انفرادی، اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔اُس سارے زہر کا نچوڑ اس کتاب میں اکٹھا کیا گیا ہے جو گزشتہ کئی صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔سارا ز ہر نہیں تو اُس میں سے بہت سے حصے خصوصیت کے ساتھ جو آج کے مغربی مزاج کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں کیونکہ فحشاء یہاں عام ہے اور اُس کے نتیجے میں جنسی مضمون سے تعلق رکھنے والی کتابیں یہاں زیادہ مقبولیت اختیار کرتی جاتی ہیں۔اس لئے بعض قسم کی روایات پر بنا کر کے اُس نے اس کتاب کو ایک نہایت گندی ، جنسی جذبات ابھارنے والی کتاب یا جنسی جذبات کو بعض مقدس لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے تصنیف کیا اور رنگ یہ دیا کہ گویا ایک کہانی ہے۔بہت سے تبصرے اس پر ہوئے ہیں لیکن ان تبصروں کی تفصیل میں تو میں یہاں نہیں جاؤں گا، بعض باتیں اس ضمن میں میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ایک بات خصوصیت کے ساتھ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ کتاب سلمان رشدی کی یقینا نہیں۔اُس نے اپنے ایمان کا تو نہیں، کیونکہ ایمان اُس کے پاس نہیں تھا اپنی روح کا سودا کیا ہے اور کسی امیر سوسائٹی نے اس کو روپیہ دے کر اس بات پر آمادہ کیا ہے۔اس کے بعض قریبی دوستوں نے اس کو مشورہ بھی دیا کہ یہ بہت خطرناک بات ہے اور تم اس میں ملوث نہ ہو اور بعض ٹیلی ویژن پروگراموں میں اُن کا ذکر بھی آیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روپیہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ اُس کو رد نہیں کر سکا اور چونکہ خود ایک بے دین اور لامذہب انسان تھا اور خود اپنی ذاتی زندگی اس قسم کی نہیں تھی کہ جس میں انسان نفاست اور شرافت کے تقاضوں کو محوظ رکھے۔اس لئے