ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 240 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 240

240 بددیانتی انہوں نے کی وہ یہ کہ اُس سے قوی تر روایات زیادہ مند کتب میں ایسی موجود تھیں جوان لغور وایات کو کلیۂ رو کرتی تھیں، قرآن کریم کی تعلیم اور قرآن کریم میں واضح نصوص اور آیات ایسی موجود تھیں جن کی روشنی میں کوئی دیانتدار محقق ان بیہودہ اور لغور وایات کو نگاہ میں نہیں لاسکتا تھا جو سینکڑوں سال بعد اکٹھی ہوئیں اور جن کے اکثر راوی بالکل جھوٹے تھے اور اسلامی محققین نے جو تحقیقات کیں اسماء الرجال کے سلسلے میں اس میں اُن کا جھوٹ، اُن کا خبث، اُن کا منافق ہونا اور اُن کا بد کار ہونا اس قسم کی بہت سی باتیں اُن کتب میں موجود تھیں جو یہ پڑھتے تھے اور جانتے تھے۔کیونکہ بڑے بڑے لائق اور قابل آدمی اس پہلو سے موجود تھے کہ اُنہوں نے اسلامی کتب کی خوب ورق گردانی کی لیکن وہی چیز چھٹی جو اسلام کے خلاف حملے کے طور پر استعمال ہو سکتی تھی اور بظاہر دیانتداری کا ایک لبادہ اوڑھالیکن در حقیقت یہ ایک انتہائی بددیانت تصنیفی کوشش تھی یا تحقیقی کوشش تھی جس کو انہوں نے ظاہری طور پر غیر جانبدار تحقیق کی ملمع کاری کے اندر پیش کیا۔پھر وہ دور بدلا جیسا کہ میں نے گزشتہ بعض خطبات میں بھی بیان کیا تھا۔1984ء میں جب میں انگلستان آیا ہوں تو میں نے اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی کہ محققین نے پھر اسلامی دنیا کی بڑھتی ہوئی طاقت کے پیش نظر اپنی پالیسی تبدیل کر لی اور حملے چھپے ہوئے اور دبے ہوئے کرنے شروع کئے اور زیادہ تر اُن مسائل کو اُچھالا جن مسائل کو اُچھالنے میں اسلامی ریاستیں یہ بجھتی تھیں کہ ہماری تائید کی جارہی ہے۔مثلا قتل مرتد میں بڑی شدت کے ساتھ ان لوگوں کی تائید کی جو کسی بزرگ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اُس کوقتل کر دینا چاہئے اور حوصلہ مخالفت کے مقابل پر نہیں دکھانا چاہئے۔یہ وہ چند باتیں ہیں بنیادی طور پر یعنی حو صلے کی کمی ، برداشت کی کمی اور غیرت کا غلط تصور اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اور ہرقسم کی مخالفانہ رائے کو شدت کے ساتھ کچلنے کی کوشش کرنا یہ وہ، کچھ بنیادی باتیں ہیں جن پر انہوں نے زور دیا اور یہ ثابت کیا کہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے اور چونکہ اس زمانے کی بعض مسلمان ریاستوں کو اپنے ملک میں جبر و تشدد کے لئے اس قسم کی اسلامی سندات درکار تھیں اور وہ یہی چاہتے تھے کہ اسلام کو اس رنگ میں پیش کیا جائے جس کے نتیجے میں اُن کا استبداد أن دائروں میں مکمل ہو جائے جن میں وہ حکومت کرتے ہیں اس لئے اُنہوں نے ان چیزوں کو اپنی تائید میں سمجھا۔اسلامی تواریخ میں درج غلط روایات پر مبنی نہایت غلیظ اور گندی زبان کا ناول ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہم پر اس دور میں عظیم الشان احسان کیا ہے وہ بہت دائروں پر پھیلا ہوا ہے لیکن یہ دائرہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ تمام ایسی غلط روایات کو تحقیقی طور پر رڈ فرمایا جن کے نتیجے میں اسلام کی تصویر ایک بھیانک مذہب کے طور پر دنیا میں ابھر رہی تھی اور ایسی تعلیم کے طور پر پیش کیا جو پاک فطری تعلیم تھی جو دلوں میں اپنے ذاتی حسن کی وجہ سے خود بخود جذب ہونے اور دلوں کو قائل کر لینے کی اہلیت رکھتی تھی۔اس پر سب دنیا میں علماء نے شور مچایا اور مخالفین نے احمدیت کے خلاف مہمات شروع کیں کہ یہ اسلام کو بگاڑ کر پیش کر رہے ہیں۔سلمان رشدی کی کتاب میں جو کچھ لیا گیا ہے وہ اُنہی روایات سے لیا گیا ہے جن کو احمدیت نے رد کیا تھا اور اس