ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 239
239 خصوصاً مسلم ممالک میں آگ لگادی۔اس میں مسلمانوں کی مقدس ہستی اور عظیم رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نا روا ، فرضی اور بے سر و پاروایات پر مشتمل الزامات لگائے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس بد نام زمانہ کتاب پر خطبات جمعہ کی ایک سیریز میں نہ صرف تبصرہ فرمایا بلکہ احباب جماعت اور مسلمانوں کی رہنمائی بھی فرمائی۔آپ فرماتے ہیں۔خطبہ جمعہ 24 فروری 1989ء سلمان رشدی کی شیطانی کتاب کا پس منظر " آج کے خطبے میں میں سلمان رشدی کی شیطانی کتاب کے متعلق احباب جماعت کو صورت حال سے مطلع کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں وہ لائحہ عمل بھی پیش کروں گا جو اسلامی تعلیم کی رو سے مسلمانوں کو ایسی صورت حال سے نپٹنے کے لئے اختیار کرنا چاہئے۔اس کتاب کا پس منظر کیا ہے؟ پہلی نظر تو فوری پس منظر پر جاتی ہے اور جیسا کہ مختلف صائب الرائے دوستوں نے لوگوں نے اظہار کیا ہے۔یہ کتاب کوئی انفرادی خباثت نہیں بلکہ اس کے پیچھے اسلام کے خلاف سازش کارفرما نظر آتی ہے لیکن اس سے بھی دور کے پس منظر میں اس سازش کی جڑیں پیوستہ ہیں اور بات وہاں سے شروع ہونی چاہئے۔اس زمانے کا مستشرق ایک تہذیب کی ملمع کاری کے پردے میں اسلام پر اب اس رنگ میں حملے کرتا ہے کہ جس سے تہذیبی دائروں کو پامال کئے بغیر وہ اسلام پر چر کے لگاتا رہے اور معصومیت اور نادانی میں بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو یہ سمجھ بھی نہیں سکتے کہ وہی شرارت اور وہی خباثت جو گزشتہ تاریک صدیوں میں عیسائی مستشرقین کی طرف سے اسلام کے خلاف جاری تھی اس نے نیا رنگ بدلا ہے لیکن خباثت وہی ہے اور دشمنی وہی ہے۔چنانچہ اس پہلو سے جب ہم اس دور کے پس منظر پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی سو سال تک مغربی دنیا میں مستشرقین زیادہ تر وہی لوگ تھے جو عیسائی پادری تھے اور عیسائی مذہب سے براہ راست اُن کا ایک خادمانہ تعلق تھا۔اس دور میں اسلام کے خلاف جو کچھ بھی لکھا گیا وہ ننگے حملے تھے۔بڑے گندے تھے لیکن ننگے اور واضح اور کھلے حملے تھے اور اُن کا طریقہ کار یہ تھا کہ کمزور ترین روایات جو مسلمانوں ہی کی کتب میں موجود ہیں اُن کو اُٹھا کر اُن کو واقعاتی صورت میں پیش کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ ہم محققین ہیں اپنی طرف سے ہم اسلام کے خلاف کوئی بات نہ کہتے ہیں، نہ اس کو تعلیمی روایات کے مطابق سمجھتے ہیں یا تصنیفی روایات کے مطابق سمجھتے ہیں۔اس لئے جو کچھ بھی انہوں نے لکھا اس کی بنیادیں انہوں نے اسلامی لٹریچر میں سے تلاش کیں۔واقدی مؤرخین میں سے اُن کا بہت مرغوب ہوا۔اسی طرح طبری نے بے احتیاطی سے جو بعض لغو اور بیہودہ روایتیں اکٹھی کیں اُن پر اُنہوں نے بنا کی اور مغربی دنیا کے سامنے یہ تاثر پیش کیا کہ دیکھو مسلمان مصنفین جو بڑے رتبے اور اعلیٰ مقام کے مصنفین ہیں جن کا وقار ہے اسلامی دنیا میں اُن کی کتابوں سے ہم یہ حوالے پیش کر رہے ہیں اس لئے یہ ہے حقیقی تحقیق ، اصل تحقیق اور یہی اسلام کی صورت ہے جو اُبھر رہی ہے۔جو