ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 238
238 بھاری کام ہوا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔پچھلے دنوں چونکہ سیاسی حالات بگڑے ہیں اس لئے اس کام میں ویسی تیزی نہیں رہی لیکن جہاں تک مخالفانہ کوششوں کا تعلق ہے وہ بھی جاری ہیں اُسی طرح اور پنجاب میں اب گزشتہ ایک دو سال کے اندر خصوصیت کے ساتھ شدھی کی تحریک منظم طور پر داخل ہوئی ہے۔ان سب تحریکات کے مقابلے کے لئے ہندوستان کی جو وقف جدید ہے اُس کی یہ استطاعت نہیں ہے، مالی لحاظ سے جتنی ضرورت ہے ہندوستان کی جماعتیں چونکہ چھوٹی رہ گئی ہیں اُن میں یہ طاقت نہیں ہے۔اس مقصد کے پیش نظر میں نے وقف جدید کو مستقلاً تمام دنیا میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا اور مقصد یہی تھا کہ یہ سارا روپیہ جب تک ضرورت پیش آتی ہے ہندوستان کے لئے وقف کیا جائے اور اگر یہ ضرورت پوری ہوگئی یعنی ضرورتیں تو دین کی ویسے کبھی پورا نہیں ہوا کرتیں مگر اگر ایسا وقت آیا کہ ہندوستان کی جماعتیں اپنی کوششوں کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں اور اللہ کرے کہ جلد وہ وقت آئے تو پھر اسی روپے کو آپ کے بچوں کی تربیت کے لئے استعمال کیا جائے گا اور جس طرح معلمین تیار کئے جاتے ہیں ، مدرس کے طور پر جگہ جگہ بیٹھ کر چھوٹی جماعتوں میں پورے مربی کی تعلیم تو وہ نہیں پاتے لیکن اتنا علم ضرور رکھتے ہیں کہ ابتدائی قرآن کی تعلیم ، نماز ، روزے کی تعلیم دے سکیں تو اس قسم کے معلم پھر غیر ملکوں میں بھی رکھے جاسکتے ہیں۔تو یہ تحریک انشاء اللہ تعالیٰ ایک لمبی چلنے والی تحریک ہے اور بہت ہی نتیجہ خیز ثابت ہو گی لیکن سردست تو فوری ضرورت ہمیں ہندوستان کے لئے ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ وہ جماعتیں بھی جب تک اس تحریک کے فوائد سے غافل رہنے کی وجہ سے اس میں ہل کا حصہ لیتی رہی ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب جماعت کو احساس ہو جائے کہ اس چیز کی ضرورت ہے تو پھر وہ ہل کا حصہ نہیں لیا کرتی بلکہ بعض دفعہ تو روکنا پڑتا ہے، سمجھا کر کہنا پڑتا ہے کہ اس سے زیادہ نہ بڑھو۔اس لئے یہ تو ناممکن ہے کہ جماعت میں وقف جدید کی طرف اس لئے توجہ نہ دی ہو کہ اُن کے اندرا خلاص میں کمی آگئی ہے۔نعوذ بالله ذالك ليكن يہ یقینی بات ہے کہ وقف جدید کے فوائد اور اس کے عالمی اثرات سے ناواقفیت کے نتیجہ میں جماعت کا رد عمل نسبتا نرم ہوا ہو۔اس لئے میں آپ کو یاد کرا رہا ہوں کہ یہ اس کے مقاصد ہیں، یہ اس کے فوائد ہیں، ضروریات ہیں۔اس لئے جہاں تک توفیق ہو آپ اس تحریک میں پہلے سے بڑھ کر حصہ لیں اور آخر پر جو بات یاد دہانی کے طور پر کہتا ہوں کہ اپنے بچوں کو کثرت سے اس میں شامل کریں۔" خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 14-15 ) سلمان رشدی کی رسوائے زمانہ کتاب satanic verses پر تبصرہ رسوائے زمانہ رشدی نے اپنے اندر اسلام کے متعلق خبیثانہ خیالات کو ایک کتاب satanic verses میں بیان کیا۔جو نہایت ہی غلیظ ، بیہودہ اور اخلاقیات سے گرا ہوا ایک ناول تھا۔جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں