ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 237
237 خدا اسے چھوڑ دے۔اس لئے پاکستان کی جماعت نے بہر حال برومند اور فتح مند ہونا ہے۔ہاں آپ کی دعائیں ان کو پھر بھی لگتی ہیں اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں مزید فضل ان پر نازل ہوتے ہیں۔ہندوستان میں جہاد کے لئے دنیا بھر کے احمدیوں کو دعاؤں کی تحریک پس ہندوستان کی جماعت کے لئے بھی اس عظیم دور میں جس جہاد کے دور میں داخل ہونے لگی ہے آپ کثرت سے دعائیں کریں اور یہ دعا کریں کہ اے خدا! پہلے بھی ہم کمزور تھے بظاہر آج کے مقابل پر طاقتور تو تھے مگر دشمن کے مقابل پر اتنے کمزور تھے کہ اگر تیر افضل اُس وقت بھی نہ ہوتا تو تب بھی ہم لا زمانا کام ہو جاتے تو تیرے فضل کے مقابل پر یہ کمزوری اور طاقتوں کی نسبتیں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔آج بھی ہم کمزور ہی ہیں۔یہ تو انسان دیکھ رہا ہے کہ اس کی نسبت پہلے سے زیادہ کمزور ہیں مگر جہاں تک تیرے حصہ کی شمولیت کا تعلق ہے تیری مددکا، تیری نصرت کا حصہ جب شامل ہو جائے تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنا کمزور تھا اور کتنا طاقتور تھا۔وہ ہر کمی کو پورا کرنے والا حصہ بن جاتا ہے اور غلبے کی یقینی خوشخبری لے کر آتا ہے۔اس لئے میں ہندوستان کی جماعتوں کو یہ بھی یقین دلاتا ہوں کہ ہرگز خوف نہ کھائیں، ہرگز اپنی کمزوری پر نظر نہ رکھیں۔وہ قادر اور قدیر اور توانا خدا جس نے پہلے جماعت احمدیہ کے اس جہاد میں مددفرمائی تھی آج بھی وہ مددفرمائے گا اور یقیناً آپ ہی فتح مند ثابت ہوں گے انشاء اللہ تعالی۔جائیں اور اس میدان میں سب کچھ جھونک دیں اور اسلام کا دفاع کریں کیونکہ جماعت احمدیہ کا قیام اسی غرض سے ہے۔" خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 561-569) ہندوستان میں شدھی تحریک کو روکنے کے لیے وقف جدید کو عالمی حیثیت دینا " آج سے تین چار سال پہلے کی بات ہے غالباً تین سال پہلے کی بات ہے جب شدھی کے خلاف جہاد کی میں نے تحریک کی ہے تو اُس وقت شدھی کے لئے وقتی روپے کی کچھ ضرورت تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہوگئی لیکن یہ ایک ایسا کام نہیں ہے جسے ہم تھوڑا بہت کرنے کے بعد بھلا دیں۔ہندوستان میں وسیع پیمانے پر مختلف صوبوں میں مسلمانوں کومرتذ کر کے دوبارہ ہندو بنانے کی منظم کوششیں جاری ہیں اور جتنی زیادہ میں تحقیق کروارہا ہوں اُتنا ہی زیادہ ہولناک منظر سامنے آ رہا ہے۔علی گڑھ جو مسلم یو نیورسٹی کا مرکز ہے اور اسلامی تعلیم کا ہندوستان میں ایسا مرکز ہے گویا ایک روشنی کا مینار ہے وہاں۔اُس کے ارد گرد ہزاروں گاؤں ایسے ہیں جو مسلمان ہوئے تھے چند نسلیں پہلے اور اب دوبارہ ہندو بنالئے گئے ہیں۔یوپی (U۔P) میں مسلمان مراکز کے ارد گرد مشہور شہروں مثلاً لکھنؤ کے ارد گرد، شاہجہانپور کے ارد گرد مختلف جگہوں میں یہی قصہ جاری ہے، آندرا پر دیش میں راجستھان کو لے لیں، کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں منظم طریق پر یہ تحریک جاری نہ ہو اور پنجاب میں بھی اب یہ ممتد کر دی گئی ہے۔قادیان سے باہر ہم نے یہ تحریک چلائی تھی کہ گرتے ہوئے مسلمانوں کو سنبھالیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی مسجد میں واگزار کروائی گئیں، جہاں اذانیں نہیں ہوتی تھیں اذانیں دلوائی گئیں۔باقاعدہ نمازیں شروع کی گئیں اور مسجدوں کو آباد کیا گیا۔بہت