ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 3 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 3

3 اسلام کی حالت زار اور اس کیلئے در در کھنے والا ایک دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورا کا برین سلف اور بزرگان امت کی پیشگوئیوں کے مطابق آخری زمانہ میں اسلام نام کا رہ جائے گا۔مسلمان، یہود ونصاریٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے ان کی طرح اخلاقی اقدار سے دور ہو جائیں گے۔مسلمانوں میں اضطراب اور انتشار عام ہوگا۔بڑے گھمبیر فتنوں کا ظہور ہوگا قتل و غارت عام ہوگی۔زنا بکثرت ہوگا۔شراب عام پی جائے گی۔الغرض اسلام مُردہ کی طرح ہو جائے گا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔الفاظ کے سوا قر آن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانہ کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے یعنی تمام خرابیوں کا وہی سر چشمہ ہوں گے۔سنن ابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے قیامت کی یہ نشانیاں مروی ہیں۔علم ختم ہو جائے گا۔جہالت کا دور دورہ ہو گا۔زنا بکثرت پھیل جائے گا۔شراب عام پی جائے گی۔مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں باقی بچ رہیں گی جس کی وجہ سے پچاس پچاس عورتوں کا ایک ہی نگران اور سر پرست ہوگا۔(مشكوة كتاب العلم الفصل الثالث) (سنن ابن ماجه کتاب الفتن باب اشراط الساعة) امت میں امانتوں کے اٹھنے کے معنی بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کے سپر داہم کام کئے جائیں گے یعنی اقتدار بد دیانت اور نا اہل لوگوں کے ہاتھ آجائے گا اور وہ اپنی بد دیانتی اور فرض ناشناسیوں کی وجہ سے قوم کو برباد کر دیں گے۔(بخارى كتاب العلم باب من سئل علما و هو مشتغل في حديثه) پھر ایک موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ انتہائی جاہل اشخاص کو اپنا سردار بنالیں گے اور ان سے جا کر مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے۔پس خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔(بخاری کتاب العلم باب كيف يقبض العلم) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مبارک الفاظ آخری زمانہ میں مسلمانوں پر پورا اترنے کا وقت آیا تو بہت سے اکابرین سلف اور بزرگان امت نے اسلام کی اس مُردنی اور مسلمانوں کی نکبت واد بار کا نقشہ کھینچا ہے جیسے مولوی سیدابوالحسن علی ندوی نے لکھا۔