ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 236 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 236

236 مقابلہ کرنا ہے اور باقی ساری دنیا کی جماعتیں جس طرح دعاؤں کے ذریعہ پاکستانی جماعتوں کی مدد کر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے سہارے ان کو اپنی دعاؤں کے ذریعہ مہیا کرنے میں اپنی پوری سعی کر رہی ہیں اور ہم ان دعاؤں کے اثرات دیکھ بھی رہے ہیں۔خدا کے فضل تو ویسے بھی نازل ہونے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اللہ تعالی کا یہ ایک عجیب خاص بندے سے پیار کا سلوک ہے کہ جب ان کاموں میں بھی جن کاموں میں خدا نے بہر حال یہ فیصلے کئے ہوتے ہیں کہ میں ان کو کر کے رہوں گا ان کا موں میں بھی بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ ! میں بھی چاہتا ہوں کہ یہ ہو جائے تو وہ اور زیادہ شان کے ساتھ ان کاموں کو کرتا ہے، یہ بتانے کے لئے کہ ہاں میں نے تیری آواز کو بھی سنا تیری کوشش کا بھی دخل ہو گیا ہے۔جب آپ دھکیل رہے ہوتے ہیں کا رکو تو ایک کمزور اور نا تو ان آدمی اور لنگڑا بھی ہو بے چارہ وہ بھی اگر ہاتھ لگا دے تو لوگ یہ تو نہیں کہا کرتے کہ جاؤ بھا گو تمہاری ضرورت نہیں ہے۔اگر شرافت ہو، اگر حیاء ہوتو کہتے ہیں ہاں ہاں ہم تمہیں جگہ دیتے ہیں آؤ تم بھی شامل ہوا اور تحسین سے اس کو دیکھتے ہیں۔اللہ تو سب شکر یہ ادا کرنے والوں سے زیادہ شکر یہ ادا کرنے والا ہے۔ہر خدمت کرنے والے کو زیادہ احسان مندی کی نگاہ سے دیکھنے والا ہے۔آنحضور پر درود پڑھنے کی تاکید یہ حکمت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں تاکید فرمائی کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا کرو۔اب یہ ظاہری بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور شفقتیں فرمانے کے لئے اور فضل نازل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو ہماری پکار کی کیا ضرورت تھی کہ تم دعا ئیں کرو گے تو میں بھیجوں گا ورنہ نہیں بھیجوں گا۔وہ تو خدا نے بھیجنا ہی بھیجنا تھا اس پر رحمتوں اور فضلوں اور برکات کو۔اس کثرت سے کہ جس کثرت سے خدا تعالیٰ کسی بندے پر فضل نازل فرما سکتا ہے، ان فضلوں نے بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونا ہے۔پھر یہ کیا حکمت ہوئی کہ تم بھی درود بھیجو اور خدا بھی بھیجتا ہے اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں۔اس کے بعد کیا ضرورت ہے بندوں کے درود بھیجنے کی؟ اور حکمتوں کے علاوہ ایک یہ بھی ہے تا کہ خدا آپ کی دعاؤں کو سنے، آپ کے درود کو قبول فرمائے اور ، اور زیادہ فضل یہ کہ کر نازل فرمائے کہ دیکھو میں نے تمہارا حصہ بھی ڈال لیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یک طرفہ احسانات اتنے تھے تم پر کہ کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی تمہیں کہ کسی طرح بھی ان احسانات کو ادا کرنے کا تصور بھی باندھ سکولیکن ہماری معرفت، ہماری رحمت کے صدقے تمہیں یہ موقع مل گیا کہ کم سے کم احسان مندی کا اظہار تو کرو اور درود بھیجو۔اور خدا فرماتا ہے میں اسے قبول کروں گا، میں فضلوں کو اور بھی بڑھاؤں گا۔پس جب میں کہتا ہوں کہ بیرونی جماعتوں کی دعاؤں سے لازماً فائدہ پہنچ رہا ہے تو یہ مراد نہیں ہے کہ اگر یہ دعا ئیں نہ ہوتیں تو نعوذ باللہ پاکستان کی جماعت برباد ہو جاتی۔وہ تو خدا کا وعدہ ہے، قول ایسا ہے جو کسی قیمت پر بدل نہیں سکتا۔ممکن نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو خواہ کسی ملک میں کوئی ابتلا پیش آئے اور