ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 234
234 حمیت کو اکسایا گیا ، ان کی منتیں بھی کی گئیں ، ان کو طرح طرح سے اسلام کی محبت کے واسطے دے کر اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ اپنے وقتی اختلافات کو چھوڑ دو اور سارے مل کر اسلام کے خلاف اس انتہائی خوفناک سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جاؤ۔کچھ عرصہ تک یہ کام بہت اچھا چلا اور چونکہ اس وقت کے اہل بصیرت مسلمان علماء یہ سمجھتے تھے کہ جماعت احمد یہ جب تک اس تحریک میں مرکزی کردار ادا نہ کرے یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے انہوں نے جماعت احمدیہ کی تائید کی اور ہر طرح سے اس معاملہ میں جماعت سے تعاون بھی کیا بلکہ حضرت مصلح موعود کو خطوط لکھ کر کھلم کھلا اس بات کا بھی اقرار کیا کہ اگر آپ نے اس تحریک کی پشت پناہی نہ کی اور بھر پور حصہ نہ لیا تو ہمیں ڈر ہے کہ یہ تحریک مرجائے گی۔اس کی تفصیل دہرانے کا تو وقت نہیں، یہ تاریخ کی باتیں ہیں اور مختلف اخبارات اور رسائل اور کتب کی زینت بن چکی ہیں۔آج میں آپکو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حال ہی میں ہندوستان میں دوبارہ ایک نہایت ہی خوفناک شدھی کی تحریک شروع کی گئی ہے اور وہی ملکانے کا علاقہ اس کے لئے منتخب کیا گیا ہے اور اس دفعہ غالبا ہندوستان کے بعض انتہا پرست ہندوؤں کو جن میں آریہ بھی پیش پیش ہیں یہ شبہ ہے کہ وہ جماعت جو اس معاملے میں اسلام کا فعال دفاع کر سکتی تھی ، جو مسلسل بے خوف قربانیاں دے سکتی تھی ، اس کی اکثریت تو یہاں سے ہجرت کر کے پاکستان جا چکی ہے اور پاکستان میں وہ خود ایسے مصائب میں مبتلا ہے کہ اسے اس بات کی ہوش ہی نہیں ہوسکتی کہ ہندوستان کی سرزمین میں آکر یہاں اس شدھی کی تحریک کے خلاف کسی جہاد کا آغاز کرے۔اور جہاں تک ہندوستان کی جماعتوں کا تعلق ہے وہ جانتے ہیں کہ اس زمانے کی نسبت جب یہ شدھی کی تحریک بائیں تھیں ، چوبیس کے سالوں میں آغا ز پائی اور پھر انجام کو ، پہنچی۔اس زمانے میں ہندوستان میں جماعت کو جو طاقت حاصل تھی اب اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہے۔اس وجہ سے بھی ان کی حوصلہ افزائی ہوگئی۔انتہا پسند آریوں اور مذہبی جنونیوں کو انتباہ اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کچھ پاکستان میں جماعت کے حالات کی بنا پر ان کو اس بات کی جرات ہوئی لیکن میں ہندوستان کے ان انتہا پسند آریوں اور دیگر مذہبی جنونیوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ کسی قیمت پر بھی جماعت احمد یہ اس جہاد سے باز نہیں آئے گی۔حضرت ابو بکر صدیق کی سنت ، آپ کا اسوہ ہمارے لئے کافی ہے۔اس معاملہ میں وہ سنت اور وہ اسوہ بعینہ ان حالات پر چسپاں ہو رہا ہے۔جب ہر طرف اسلام کے خلاف، اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت پھیل گئی اور تمام عرب میں قبائل نہ صرف مرتد ہونے لگے بلکہ مرکز اسلام پر حملہ آور ہونے لگے۔بہت ہی دردناک طریق پر مسلمانوں کو جو چند مسلمان ان کے علاقوں میں ایسے تھے جنہوں نے ارتداد کا انکار کیا، ان کو قتل کیا گیا ، ان کے گھر جلائے گئے، ہر طرح کی اذیتیں دی گئیں یہاں تک کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ سارا عرب اسلام کا باغی ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوگا۔اس وقت حضرت ابوبکر صدیق نے جو حیرت انگیز اسلامی حمیت اور غیرت کا نمونہ دکھایا اور