ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 233
233 درج کئے جارہے ہیں۔کون سچا ہے جو اس درود کی خاطر اپنی جان و مال اور عزتوں کو قربان چلا جارہا ہے۔وہ بچے ہیں یا تم سچے ہو جو جھوٹے الزام لگا کر اسلام کے چہرہ کو داغدار کرنے کی کوشش کرتے ہو۔مگر احمدی اپنے سینوں پر یہ داغ لیں گے اور اسلام کا چہرہ داغدار نہیں ہونے دیں گے۔حضور نے بڑے جلال سے فرمایا کہ یہ وہ جنگ ہے اور آخری جنگ جو حق و باطل کے درمیان لڑی جارہی ہے اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں یہ بات خدا کی ضرور پوری ہوگی کہ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا حق ضرور جیتے گا اور باطل بھاگ جائے گا کیونکہ اس منحوس باطل کے مقدر میں بھاگنے کے سوا اور کچھ نہیں۔الفضل انٹر نیشنل 19 اگست 1994 ء) ہندوستان میں تحریک شدھی کے خلاف اعلان جہاد اور پاکستان میں حملوں کی اسلام مخالف حرکات کا تذکرہ 1986ء میں ایک بار پھر انڈیا میں شدھی تحریک نے سر اٹھایا اور بعض انتہا پسند آریوں اور مذہبی جنونیوں نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک کا آغاز کیا۔ادھر پاکستانیوں میں بھی ایک سربراہ مملکت کے جھنڈے تلے احمدیت کے خلاف معاندین اپنی کارروائیوں میں مصروف تھے۔تو حضرت خلیفۃ ابیح الرابع رحمہ اللہ نے اسلام سے محبت کے پیش نظر 22 اگست 1986ء کو ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا۔آپ نے اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مصلح موعودؓ کے دور میں شدھی تحریک کی تفصیل 1922 ء، 23 ء اور 24 ء کے دور میں جو مسلمانوں کے لئے ہندوستان میں ایک انتہائی دردناک دور تھا۔ملکانے کے علاقہ میں ایک شدھی کی تحریک چلائی گئی تھی اور کثرت سے راجپوتوں کو یہ کہہ کر دوبارہ ہندو بنایا جارہا تھا کہ تمہارے آباؤ اجداد تو ہندو تھے اور تمہیں مسلمان بادشاہوں نے زبر دستی مسلمان بنا لیا تھا اس لئے تمہارا اصل مقام تمہارا دائمی مقام ہندوسوسائٹی میں ہے اور اگر تم دوبارہ ہندو بن گئے تو تمہیں اور بہت سی ایسی مراعات حاصل ہو جائیں گی جو اس سے پہلے حاصل نہیں ہیں۔روپیہ کا بھی لالچ دیا گیا اور روپیہ خرچ بھی کیا گیا اور بعض جگہ جبر سے بھی کام لیا گیا اور ایسے تنگ حالات کر دیئے گئے ہندوؤں کی طرف سے اس علاقہ میں کہ بہت سے مسلمان مجبور ہوکر اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ پا کر ہندو ہونے شروع ہوئے۔اس وقت جماعت احمدیہ ہی کو یہ توفیق ملی کہ اس انتہائی خوفناک سازش کو بے نقاب کرے اور حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے اس شدھی کی تحریک کے خلاف ایک انتہائی کامیاب جہاد شروع کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔تمام ہندوستان کے مسلمان علماء کو خطوط بھی لکھے گئے ، وفود بھیج کر ان سے ملاقاتیں کی گئیں ، ان کی غیرت کو ابھارا گیا ، ان کی