ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 232
232 شاتم رسول کی سز انتل پر تمام علماء متفق نہیں یہ کہنا کہ شاتم رسول کو قتل کرنے پر علماء کا اتفاق ہے ہر گز درست نہیں ہے۔اس سلسلہ میں حضور نے حضرت امام ابو حنیفہ اور بعض دیگر علماء کے حوالے دیئے۔اسی طرح ان احادیث کا ذکر فرمایا جن میں واضح طور پر بعض یہود اور مشرکین اور منافقین کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی گستاخی کا ذکر ملتا ہے لیکن اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے قتل کا کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوا۔صحیح بخاری میں ذکر ہے کہ کفار آپ کو مذمم کہتے تھے۔آپ فرماتے۔اللہ نے میرا نام محمد رکھا ہے یہ کسی نزم کو گالیاں دیتے ہوں گے۔اس طرح اللہ نے مجھے ان کے بُرا بھلا کہنے سے بچالیا ہے۔حضور نے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے آپ کو بچایا ہے۔اللہ نے آپ کا نام محمد رکھا ہے۔ایک کیا کروڑوں اربوں بد بخت بھی تمام عمر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں دیتے چلے جائیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام ہمیشہ سچار ہے گا کہ خدا نے خود آپ کا نام محمد رکھ کر ہر بد بخت کی بد زبانی سے آپ کو بچالیا ہے۔اسی طرح صحیح بخاری کی ایک اور روایت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دفعہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مال تقسیم فرمارہے تھے ایک شخص نے اعلانیہ اعتراض کیا کہ آپ نے عدل سے کام نہیں لیا۔حضور اکرم نے اسے خدا کا تقوی اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔حضرت خالد بن ولیڈ نے اجازت طلب کی کہ اس گستاخ رسول کو قتل کر دیں مگر رسول اللہ نے فرمایا نہیں ایسا مت کرو شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو۔یہ وہ اسلام ہے جو اپنے حسن کے ساتھ تمام دنیا پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کون ہے جو اس اسلام کی راہ روک سکے۔وہ اسلام تم نے کہاں سے سیکھا ہے جو من وعن اسلام کے دشمنوں پر صادق آرہا ہے۔جو ابو جہل، عتبہ اور شیبہ کا کردار پیش کر رہا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن چھوڑ کر تم کن اندھیروں میں بھٹکتے پھر رہے ہو۔اگر بخاری کی یہ روایت بچی ہے تو ناممکن ہے کہ وہ روایتیں کچی ہوں جن سے یہ لوگ قتل کے جواز نکالتے ہیں۔سورۃ منافقون ان لوگوں کے خلاف بہت بڑی گواہ ہے جو توہین رسالت کی سزا قتل تجویز کرتے ہیں اور قیامت تک یہ ان کے خلاف گواہ بن کر کھڑی رہے گی۔ہمیں توہین رسالت کا مرتکب قرار دینے والے خود کس کس طرح کی بیہودہ سرائی کرتے ہیں اور خدا اور رسول کی گستاخی کے مرتکب ہیں۔اور احمدیوں کی حمد اور درود بھی انہیں تکلیف پہنچاتا ہے۔حضور نے چار اسیران کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دس سال انہوں نے جواذیتیں برداشت کی ہیں وہ اتنی درد ناک ہیں کہ خدا کی قسم مہینوں میں روزانہ ان کے لئے رویا کرتا تھا۔ان کا جرم کیا تھا اور کیا جرم ہے ان کا جو آج کال کوٹھڑیوں میں زندگی کے سانس لے رہے ہیں۔وہ جرم یہ ہے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور سیرت رسول پر مضمون شائع کرنے کی جرات کی۔قرآنی آیات اور درود شریف پڑھنے کی وجہ سے احمدیوں پر گستاخی رسول کے مقدمے درج ہوئے۔حضور نے بعض مقدمات کا قدرے تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح جھوٹے طور پر احمدیوں کے خلاف مقدمات