ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 231
231 خدا نے ہر روح میں اس طرح داخل فرمایا کہ اس دین فطرت سے انسان کا خمیر اٹھایا گیا ہے۔اس خمیر کے خلاف تم کوئی دین دنیا میں رائج نہیں کر سکتے۔دین وہی رائج ہو گا اور فتح یاب ہو گا جس کا خمیر انسانی فطرت میں گوندھا گیا ہے اور وہ بین الاقوامی انسانیت کا تصور ہے۔اسلام کا کوئی حکم بھی اس بین الاقوامی انسانی تصور سے ٹکر انہیں سکتا۔مولویوں کو انتباہ توہین رسالت کی سزا کے قائل مولوی قرآن کریم کی جن آیات سے اپنے موقف کے حق میں استنباط کرتے ہیں ان آیات سے ہرگز وہ استدلال نہیں ہوتا جو یہ لوگ کرتے ہیں اور قرآن کریم کی دیگر متعدد آیات ان کے اس استنباط کو بڑی قوت سے رد کرتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کا ایسے خیالات کا قرآنی آیات کی طرف منسوب کرنا ہی قرآن کی گستاخی ہے۔انہی آیات کو پیش کرتے ہوئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ اگر تم اس ظالم مسلک سے باز نہ آئے تو خدا کا وعدہ ہے کہ وہ تمہیں ضرور ذلیل ورسوا کرے گا اور اسلام کو تمہارے ہاتھوں ذلیل ورسوا نہیں ہونے دے گا۔جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے دو ایسے واقعات ہیں جنہیں یہ علماء اپنے حق میں پیش کرتے ہیں۔ایک کعب بن اشرف اور دوسرا ابو رافع دو یہودیوں کے قتل کے واقعات مستشرقین نے بھی ان واقعات کو بہت اچھالا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بدنما دھبہ کے طور پر ظاہر کر کے اعتراض کئے ہیں۔۔۔۔ان واقعات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر کوئی داغ نہیں لگتا اور ان سے گستاخ رسول کو سزا کے طور پر قتل کرنے کا استنباط کرنا بھی سراسر ظلم ہے۔جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے اور قرآن کریم نے بھی بعض واقعات کا ذکر فرمایا ہے۔مدینہ کی گلیوں میں آپ کی اور ازواج مطہرات کی گستاخی کی جاتی تھی مگر اس کے مقابل پر جوابی حملہ کے طور پر مسلمانوں کو ہرگز ایسے لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دی گی۔پس سنت رسول کو سنت رسول کے خلاف کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ ناممکن ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار میں تضاد ہو۔نہ آپ کے کلام میں کوئی اختلاف ہے، نہ آپ کی سنت میں کوئی اختلاف ہے اور نہ آپ کا قرآن کریم کی تعلیم سے کوئی اختلاف ہے اور ہر وہ تاریخی واقعہ جس سے یہ استنباط کیا جائے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی حالات میں ایک جگہ اور حکم جاری فرما رہے تھے اور دوسری جگہ اور حکم جاری فرمارہے تھے بالکل غلط اور جھوٹا الزام ہے۔آنحضور کا کردار وہی پاک یکساں کردار ہے جس کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ظاہر بھی نور تھا اور باطن بھی نور تھا۔آپ کے کردار میں کوئی تضاد دکھائی نہیں دے گا۔ملاں کی طرف سے پیش کی گئی روایات کے راوی کمزور ہیں ازمنہ وسطی کے جن علماء کی بیان کردہ روایتوں اور فتاوی پر بنیا در کھتے ہوئے توہین رسالت کی سزا موت تجویز کی جاتی ہے۔ان فتاوی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں محققین کے نزدیک ان کے راوی ضعیف، نا قابل اعتماد اور جھوٹے تھے۔ان لوگوں نے بعض نہایت حیا نہ روایات کو رسول اللہ کی طرف منسوب کر کے اپنی کتب میں جگہ دی ہے۔