ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 229
229 منوالے گی۔تو ان کا یہ سلوک تھا انبیاء سے، یہ سلوک حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ تھا اور پھر یہ کہ تیری باتیں سننے کی ٹوہ رکھتے ہیں اور جب تو ان سے باتیں کرتا ہے تو پھر نظر انداز کر دیتے ہیں، بے عزتی کرتے ہیں گویا ان کے کانوں میں بوجھ پڑ گیا ہے (الانعام : 26 ) یہ سارے طریق انہوں نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جھٹلانے اور آپ کی تکذیب کے اور آپ کی تذلیل کے اختیار کئے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کہیں اس کے جواب میں سوائے اس کے کہ ان کو ہدایت کی دعائیں دی ہوں ان کے خلاف کوئی بدنی کاروائی نہیں فرمائی نہ آپ کو اس کی تعلیم دی گئی۔الفضل انٹر نیشنل 2 ستمبر 1994ء) خطاب جلسہ سالانہ 29 جولائی 1994ء فرمایا: حضور نے تین مسلسل خطبات کے بعد جلسہ سالانہ یو کے کے افتتاحی خطاب میں بھی اسی مضمون کو جاری رکھا اور بعض فقہاء نے قرآن مخالف احادیث پیش کر کے ایک بھیانک تصویر اسلام کی پیش کی ہے " بہت سے ظالموں نے قرآن کریم کی حقیقی تعلیم سے منہ پھیر کر ازمنہ وسطی کے بعض فقہاء اور بعض حدیثیں جمع کرنے والوں کی ایسی حدیثوں پر بنا کرتے ہوئے جن کی کوئی اصل نہیں ہے اور جو قرآن کریم کے مضمون سے واضح طور پر ٹکرانے والی ہیں۔ایسے مفتی پیدا ہوئے جن مفتیوں نے اپنی عقل وفہم کے مطابق بظاہر اسلام کی خدمت کی مگر ایسا بھیانک تصور اسلام کا پیش کیا کہ اس تصور کی رو سے اسلام دنیا پر فتح یاب نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تصویر انسانی فطرت کے خلاف ہے اور قرآن کا دعوی ہے کہ قرآنی تعلیمات فطرت کے مطابق ہیں۔فطرت پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور فطرت ہی کی تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے۔پس ہر وہ تعلیم جس سے فطرت مناسبت نہیں رکھتی۔ہر وہ تعلیم جو انسان کی کچی فطرت کے معاند اور مخالف ہے وہ کسی صورت میں بھی اسلام کی سچی تعلیم نہیں کہلا سکتی۔یہ ایک ایسا دائگی ، بنیادی قطعی اصول ہے جس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔اسلام کی جو تصویر ان لوگوں نے پیش کی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بھیا نک ہے بلکہ ان کا عمل اس تصویر کوخود جھٹلا رہا ہے۔اسلام کے نام پر جبر اور ظلم اور زبردستی اور کسی گستاخی کی خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو انسانی سزا کا کوئی تصور پیش نہیں کیا گیا۔لیکن ان مفتیوں نے اور آج بھی جو آج کے مفتیوں کی لگا میں تھامے ہوئے ہیں انہوں نے کھلم کھلا یہ فتوے دیئے ہیں کہ کفر کی سزا قتل ہے۔اس کے سوا اور کوئی سزا نہیں ہے اور جہاں جہاں گستاخی کے حوالے سے قتل کے فتوے دیئے ہیں وہاں یہ استنباط قائم کیا ہے کہ چونکہ گستاخی رسول کرنے والا کافر ہو جاتا ہے اور کفر کی سز اقتل کے سوا اور کچھ نہیں اس لئے لازماً ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام کوئی علاقائی مذہب ہے یا جغرافیائی یا قومیائی مذہب ہے؟ یا بین الاقوامی اور