ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 228 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 228

228 آنحضرت نے کبھی بھی تضحیک کی بدنی سزا کا اعلان نہیں کیا بلکہ معاف فرمایا: کیا یہ سب عزت افزائی کے کلمات ہیں؟ اگر نہیں تو قرآن کریم نے کہاں ان کی سزا مقرر فرمائی اور ان سبہ باتوں کو سن کر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے خود کیا نمونہ دکھایا۔یہ آیات تو مسلسل ایک سلسلہ ہے تمام انبیاء کی تضحیک کا تذکرہ ایک طرف اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے خلاف گستاخیوں اور تمسخر کا تذکرہ ایک طرف۔قرآن کریم میں یہ مضمون پہلے تمام انبیاء کے مضمون پر بھاری ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ تمام انبیاء سے جو مذاق کئے گئے جو ان کی رسوائیاں کرنے کی کوشش کی گئی وہ سارے ایک طرف ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے جو بد سلوکی کی گئی، وہ پھر ان سب انبیاء سے کی گئی بدسلوکیوں پر بھاری ہوتی ہے۔پھر یہ بھی کہا گیا کہ ہم اس لئے اس کی دشمنی کرتے ہیں کہ آبا ؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانے والا ہے۔پھر کہا گیا کہ یہ شاعر ہے ہم تو انتظار کر رہے ہیں کہ زمانے کی آفات اس کو چل کے رکھ دیں گی۔(الطور : 31) پھر کہا گیا کہ پراگندہ خیالات اور خوابوں ہی کو اپنا الہام بنا بیٹھا ہے۔پراگندہ خواہیں ہیں نفسانی خیالات ہیں۔(الانبیاء: 6) اور آج کل کے مولوی الہام سے ملتا جلتا ایک اور غلیظ لفظ استعمال کرتے ہیں تو ترقی یافتہ ہیں کافی ، وہی طرز ہے وہی نیج ہے جو پہلوں کی تھی ،صرف بد کرداریوں میں اور بد زبانیوں میں ان سے آگے بڑھ چکے ہیں۔کہتے ہیں اس نے تو اپنی طرف سے بات بنالی ہے ( الطور : 34) پھر معجزات کا انکار اور یہ کہنا کہ کہتے ہیں بڑے معجزات آئے ہیں ایک بھی لا کے دکھائے معجزہ تب ہم مانیں گے، یہ تو ایک بھی معجزہ پیش نہیں کر سکتا (الروم:59) اب یہ باتیں میں پرانے زمانے کی کر رہا ہوں جن کو قرآن کا زیادہ علم نہیں ہے وہ شاید یہ سمجھ رہے ہوں میں اس زمانے کی بات کر رہا ہوں، بعینہ یہی بات پاکستان کے مولوی ، احمدیوں سے کہتے اور ان سے مطالبے کرتے ہیں کہتے ہیں تم کہتے ہو مرزا صاحب نے بڑے معجزے دکھائے ، ایک لا دو۔ایک بھی آیا تو ہم مان جائیں گے اور جو معجزوں کا سردار تھا، جس سے معجزوں کے سمندر پھوٹے ، جس کے کلام کے متعلق فرمایا گیا کہ اگر ان نشانات کو لکھ لیں ، ان آیات کو جو قرآن میں نازل ہو رہی ہیں اور ان کے معانی کو۔سمندر سیاہی بن جائیں اور درخت قلم بن جائیں تو ایک کے بعد سمندر پر سمند رختم ہوتے چلے جائیں اور نئے ان کی مددکو آتے چلے جائیں تب بھی آیات الہی ، کلمات اللہ کا مضمون ختم نہیں ہوگا اور سب سے بڑا کلمات کا مضمون قرآن کریم میں بیان ہے۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت بھی یہی کہا کرتے تھے کہ ایک دکھا دو، ایک نشان لا ؤ اور ہم ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ اس کا بھی جواب دے چکا ہے أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمُ وه خدا کی قسمیں کھا کھا کر یہ اعلان کرتے ہیں لَئِنْ حَاءَ تَهُمْ آيَةٌ لِيُؤْمِنُنَّ بِهَا اگر وہ ایک بھی محمد رسول اللہ آیت لا دیں تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنَّمَا الْايْتُ عِندَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمُ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتُ لَا يُؤْمِنُونَ (الانعام: 110 ) اللہ کے پاس تو بے شمار آیات ہیں مگر کیسے تمہیں سمجھا دیں کہ جھوٹے ہیں بد بخت ،ساری آیات بھی آجائیں تب بھی یہ نہیں مانیں گے، پہلے تھوڑی آیات ہیں جن کا انکار کر بیٹھے ہیں اور کون سی آیت ان کو