ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 227
227 جن آنکھوں سے ان کو دیکھتا ہے وہ لگتا ہے کہ غضب ناک نظروں ہی سے ان کے پاؤں تلے سے زمین نکال دے گا اور وہی فطرت انسان کی قدیم سے اسی طرح چلی آ رہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں بھی یہی حال تھا ان لوگوں کا۔اس سے پہلے زمانوں میں بھی یہی حال تھا کہ بات سنتے تھے اور غصہ آ جا تا تھا اور غضب آلود نگاہیں ڈال ڈال کر ڈرانے کی کوشش کرتے تھے۔وہ کہتے تھے یہ شخص تو محض دیوانہ ہے اگر دیوانہ ہے تو دیوانے کی بڑ پر غصہ کس بات کا آتا ہے؟ پھر فرمایا وَإِذَا رَأَوُكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًاط اَهذَا الَّذِى بَعَثَ اللَّهُ رَسُولاً (الفرقان: 42) کہ جب تجھے دیکھتے ہیں تو تمسخر اور ٹھٹھوں کا نشانہ بنالیتے ہیں ، جب دیکھتے ہیں تیرا مذاق اڑاتے ہیں اور بات اس طرح کرتے میں اَهذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا دیکھو دیکھو یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے! کیسا تکبر، کیسی تحقیر اور ان سب گستاخیوں کا ذکر کرتے کرتے ایک جگہ بھی اللہ تعالی تلوار پکڑ کر ان کے سر اڑانے کی تعلیم نہیں دے رہا۔مولویوں کے کان میں اگر کسی نے پھونک دیا تو وہ اللہ نہیں ہے جس نے محمد رسول اللہ پر کلام نازل فرمایا تھا کوئی اور روح ہے جو یہ باتیں پھونک رہی ہے کیونکہ اس خدا کو اس وقت یاد نہیں تھا کہ آئندہ زمانوں میں گستاخی کی سزا موت اور موت کے سوا کوئی مقرر نہیں کرنی اور وہ بھی انسانی ہاتھوں سے۔پس قرآن کے نزول کے وقت تو اللہ تعالیٰ کو یہ باتیں یاد نہیں اب مولویوں کو کہاں سے بجھائی دے گئیں۔صاف پتہ چلتا ہے کہ کوئی اور چیز ہے جو ان کے کانوں میں یہ باتیں گھول رہی ہے یا پھونک رہی ہے۔پھر فرمایا: وَلَقَدِ اسْتُهُزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُن (الانبياء: 42) اور یقینا تجھ سے پہلے بھی تمام رسولوں کی تضحیک کی گئی یا رسولوں کی تضحیک کی گئی پس جس چیز سے وہ تضحیک کیا کرتے تھے اس تضحیک نے خودان کو گھیرے ڈال لئے یعنی خدا کی تقدیر نے ان سے سزا دینے کے لئے وہ ساری باتیں ان کے خلاف پیدا کر دیں جو انبیاء کے خلاف وہ استعمال کیا کرتے تھے۔وَإِذَا رَاكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا ط اَهذَا الَّذِى يَذْكُرُ الهَتَكُم (الانبياء: 37) کہ یہ لوگ جب تجھے دیکھتے ہیں تجھ سے مذاق کرتے ہیں ٹھٹھا کرتے ہیں اور باتیں اس طرح کرتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جو ہمارے معبودوں کے تذکرے کرتا ہے دیکھو دیکھو اس کی صورت دیکھو۔