ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 2 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 2

2 ایک دردانگیز دعا دعا جس سے حضرت مسیح موعود کی اندرونی کیفیات کا علم ہوتا ہے یہ دُعا حضور نے 1885 ء کے اوائل میں حضرت صوفی احمد جان صاحب کو حج پر جاتے وقت اپنے قلم سے تحریر کر کے دی تھی کہ اسے بیت اللہ شریف میں بغیر تبدیل و تغییر میری طرف سے پڑھیں۔"اے ارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجز اور نا کارہ پُر خطا اور نالائق غلام احمد۔۔۔کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین ! تو مجھ سے راضی ہو اور میری خطیات اور گنا ہوں کو بخش کہ تو غفور و رحیم ہے اور مجھ سے وہ کام کر ا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے۔مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی ڈوری ڈال اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہر یک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل محین میں مجھے اٹھا۔اے ارحم الراحمین! جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جواب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس عاجز کے تمام دوستوں اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کی نظر سے اپنے ظل حمایت میں رکھ کر دین ودنیا میں آپ ان کا متکفل اور متولی ہو جا اور سب کو اپنے دارالرضا میں پہنچا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام و برکات نازل کر۔آمین یا رب العالمین۔" ) مکتوبات احمدیہ جلد 5 صفحہ 17 ، 18 - تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 265)