ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 226 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 226

226 کوئی اختیار نہیں۔تو ہی ہے جو میری مددفرما سکتا ہے۔(المومنون : 40-39) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دیوانہ کہا گیا۔سورۃ الحجر میں فرماتا ہے: وَقَالُوا يَأَيُّهَا الَّذِي نُزِلَ عَلَيْهِ الذِكرُ إِنَّكَ لَمَحْنُونَ (الحجر:7) انہوں نے کہا اے وہ شخص ! اور خطاب دیکھیں کیسا تحقیر کا ہے۔اے وہ شخص جس پر ذ کرا تارا جارہا ہے تو یقیناً پاگل ہے اس کے سوا ہم اور کچھ نہیں کہہ سکتے لو ما تَاتِينَا بِالْمَلَئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّدِقِينَ ( الحجر :8) اگر تو سچا ہوتا تو ہمارے پاس فرشتے لے کے کیوں نہ آتاما نُنَزِّلُ الْمَلِئِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذَا مُنظَرِين (الحجر: 9) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سزا تو دینی ہے۔ہم ہی دیں گے ، مگر جب حق پوری طرح ثابت ہو جائے ان پر۔پھر خدا فرشتے بھیجتا ہے اور جب فرشتے بھیجتا ہے ، تو ان لوگوں کو پھر کوئی مہلت نہیں دی جاتی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو بار بار مجنون کہا گیا۔الحجر : 7 میں لکھا ہوا ہے پھر سبا: 48 میں ہے۔القلم کی آیت 52 میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں (جس میں کچھ تھوڑا تھوڑا مضمون کا اضافہ ہے میں وہی آیات لے رہا ہوں ورنہ آیات تو بہت کثرت سے ہیں ) وَاَنْ يَّكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِكرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجُنُودٌ ایک طرف تو ذکر کا یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے کلام کا حوالہ دیتے ہیں تحقیر کے ساتھ اور طعنوں کے ساتھ کہ گویا وہ جس پر ذکرا تارا جارہا ہے۔تیرا یہ حال ہے کہ اللہ نے چنا بھی تو کس شخص کو چنا جو مجنون ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس ذکر کو وہ طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں جب وہ سنتے ہیں تو غیظ و غضب میں مبتلا ہو جاتے ہیں معلوم ہوتا ہے اس ذکر میں کوئی ایسی طاقت ہے، ایسی شان ہے جس سے ان کے سینوں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے ورنہ پاگلوں والی باتوں پر تو کوئی بھڑ کا نہیں کرتا۔پاگلوں والی باتوں پر تو ہم نے سوائے اس کے کہ کوئی پاگل ہو کسی کو غصہ میں آتے نہیں دیکھا وہ ہنستے ہیں مذاق اڑاتے ہیں پھر بھی مار دیتے ہیں مگر پاگل کی بات، پاگلوں والی سن کر کوئی بھڑک اٹھے، یہ نہیں ہو سکتا۔تو قرآن کریم کا انداز بیان دیکھیں، اسی بیان میں اس کا توڑ بھی رکھ دیا، بتا بھی دیا کہ تم جھوٹے ہو اگر یہ ایسا ذکر تھا جو تمہارے سامنے پیش کرتا ہے جو پاگلوں والی باتیں ہیں، تمہیں غصہ کس بات کا آجاتا ہے؟ فرماتا ہے۔وَاَن يُكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكَرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لمحنون پاگل ایسے ہیں کہ جب ذکر کو سنتے ہیں تو غیظ و غضب سے ان کی آنکھیں لال ہو جاتی ہیں یعنی آنکھیں لال ہونے کا تو اردو محاورہ ہے، قرآن کریم فرماتا ہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ذکر سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ ابھی تجھے غضب آلود نظروں سے پھسلا دیں گے۔اب پاکستان سے آئے ہوئے لوگ تو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔مولوی