ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 225
225 بے عزتیوں کا ذکر ہے ان سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہو اور کہتے ہو کہ یہاں نہیں۔عیسائی بہت طاقتور لوگ ہیں ، ان کو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔یہودی بہت طاقتور ہیں ، ان کو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ہم تو وہیں اپنی غیرت کا مظاہرہ کریں گے جہاں ہم اتنے طاقتور ہوں کہ ہمارے قتل کے نتیجے میں ہمارے منہ پر خراش بھی نہ آ سکے۔اسلامی غیرت کا یہ تصور ہے!؟ کس کس جگہ انہوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے وہ شمار میں نہیں آسکتیں باتیں۔اب آگے چلئے یہ بھی کہتے ہیں کوئی ایسی بات نہیں۔حضرت مریم کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں یہود، رکھتے پھریں ہمیں کیا اس سے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں کہ سب بے عزتیاں برداشت، خدا کی بے عزتی برداشت مگر محمد رسول اللہ کی بے عزتی ہم برداشت نہیں کر سکیں گے۔آنحضور کے بارہ میں دشمنوں کے الفاظ کا قرآن میں تذکرہ آئیے۔اب قرآن کریم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہتک کے واقعات کا اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا افَكُ افْتَرَتْهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْم أَخَرُونَ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَّزُورًا (الفرقان) : 5 ) یہ کہتے ہیں کہ یہ سوائے جھوٹ کے اور کچھ نہیں جو محمد نے خود گھڑ لیا ہے اور یہی نہیں یہ ایک اور قوم کا ایجنٹ بھی ہے وَأَعَانَهُ عَلَيہ اس جھوٹ، افتراء باندھنے میں اور گھڑنے میں ایک دوسری قوم نے اس کی مدد کی ہے، اپنے لوگ نہیں ہیں۔اخرون سے مراد ہے کوئی باہر کی قوم ہے جو اس کی مدد کے لئے آئی ہے فَقَدْ جَاء وُا انہوں نے مل کر یہ شرارت کی ہے جَاءُوا ظُلْمًا وَّزُورًا بہت بڑا ظلم کمایا ہے ان لوگوں نے مل کر اور بہت بڑا جھوٹ گھڑا ہے۔کیا یہ ہتک رسول ہے یا نہیں ؟! اگر نہیں تو تمہاری منطق کیا ہے تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے۔ہتک اور کس کو کہتے ہیں۔اور اگر ہے تو اس کی سزا بتا ؤ قرآن کریم میں کہاں لکھی ہے؟ وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمُلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الفرقان : 6) اور اسی پر بس نہیں کی ، انہوں نے کہا یہ تو پرانے لوگوں کی باتیں ہیں۔اكتبها محمد رسول اللہ نے ، رسول اللہ تو میں کہ رہا ہوں یعنی ان کے نزدیک محمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) نے استنبہ اسے لکھوا رکھا ہے، کسی کی مدد سے لکھوالیا ہے فَهِيَ تُملى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا یہ جانتے تھے اور اقرار کرتے تھے کہ پڑھے ہوئے نہیں ہیں اس لئے لکھوایا بھی کسی سے اور کوئی اور پڑھنے والا صبح شام ان پر یہ باتیں پڑھ کے سناتا ہے تا کہ یہ بھول نہ جائیں۔پھر سورۃ المومنون کی آیات ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان ظالموں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کیا کیا کہ کر اذیتیں پہنچا میں کہا ، اِن هُوَ إِلَّا رَجُلُ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا انہوں نے کہا کہ ایسا شخص ہے جس نے خدا پر جھوٹ کا طومار باندھ رکھا ہے وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُومِنِینَ ہم ایسے شخص پر ایمان ہرگز نہیں لا سکتے۔محمد رسول اللہ نے کیا جواب دیا اپنے غلاموں کو یہ تلقین فرمائی کہ اٹھو تلواریں سونتو اور ان کے سرتن سے جدا کرد و ! ہر گز نہیں۔قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ اے میرے رب تو میری مدد فر ما اس وجہ سے کہ لوگ مجھے جھٹلا چکے ہیں میرا