ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 224 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 224

224 عبدُونَ (المومنون: 48) کیا ان جیسے عام انسانوں کی ہم اطاعت کریں جب کہ ان کی قوم ہماری عبادت کر رہی ہے۔عبدون کا مطلب غلام ہے اور چونکہ اس میں عبادت کا مفہوم بھی ہے تو غلامی اس حد تک پہنچ جائے کہ گو یاکسی مالک کی کسی آقا کی پرستش شروع ہو جائے۔یہ دونوں مضمون اس ایک لفظ میں داخل ہیں۔ہمارے غلام، ہمارے نوکر چاکر، ان کی مجال کیا ہے؟ یہ تو گویا ہماری عبادت کرتے ہیں اور ان لوگوں میں سے یہ موسیٰ ہو اور ہارون ، اور ہم ان کی اطاعت کرنی شروع کردیں یہ کیسے ممکن ہے؟ حضرت شعیب کے متعلق قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِين وہی مُسَحَّرِین کا الزام جو حضرت صالح پر لگایا گیا تھا شعراء آیت 185 میں درج ہے کہ حضرت شعیب پر بھی لگایا گیا۔الشعراء 187 میں ہے وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الكَذِبِينَ۔ہم تو سوائے اس کے کچھ نہیں جانتے کہ تو یقیناً جھوٹا ہے۔انبیا ء پر الزام کی تو یہ داستان ہے۔انبیاء کے مقدس خاندان، اہلِ بیت سے تعلق رکھنے والوں اور ان کی ماؤں پر بھی تو الزام لگائے گئے اور وہ بھی ایسی چیز ہے جس سے بہت اشتعال پیدا ہوتا ہے۔عام دنیا دار، اللہ کی بہتک پر اتنے مشتعل نہیں ہوا کرتے جتنے اپنے انبیاء اور ان کے رشتے داروں کی گستاخی پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔تو ایک طرف تو عیسائیوں کا وہ عقیدہ بیان کیا گیا جو موحدین کو مشتعل کرنے والا تھا۔اب یہودی موحدین کا وہ عقیدہ بیان کیا جارہا ہے جو عیسائیوں کے لئے جائز وجہ اشتعال رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کسی سزا کا کوئی اعلان نہیں فرمایا وَ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ( النساء: 157 ) کہ یہود ایسے ظالم لوگ ہیں کہ صرف کفر نہیں کیا بلکہ مسیح کی ماں پر نہایت نا پاک الزام لگایا جس کے نتیجے میں مسیح بھی ایک جائز انسان کہلانے کا مستحق نہیں رہا۔کیا یہ ہتک عزت نہیں ہے؟ کیا یہ رسول اور اس کی ماں اور ان دونوں کی ایسی بہتک نہیں ہے کہ اگر کوئی سزا مقرر ہونی چاہئے تو یہاں اعلان ہو جانا چاہئے تھا کہ اس کی یہ سزا ہے ! تو پھر تم ان باتوں کو کس کھاتے میں ڈالو گے۔کیسے ان آیات کے ہوتے ہوئے ان قوموں سے سلوک کرو گے۔اگر اپنی من مانی کرنی ہے تو ہر بہتک کے نتیجے میں قتل لازم ہے اس لئے اگر تقویٰ کا ادنی سا بھی شائبہ تمہارے اندر پایا جاتا ہے تو اس اعلان کے بعد ایک طرف عیسائیوں کے قتل و غارت کے لئے تلوار میں سونت لو اور نکل کھڑے ہو دوسری طرف یہود کوفتا کرنے کے لئے ان پر حملہ آور ہو جاؤ اور یہ نہ دیکھو کہ اس راہ میں تمہاری جان جاتی ہے کہ ان کی جاتی ہے۔اگر یہ دیکھنا ہے تو پھر غیرت کون سی ہوئی ؟ غیرت تو وہ ہوا کرتی ہے کہ جب مثلاً ماں کی بے عزتی ہو تو بچے خواہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، بڑے سے بڑے ظالم کے سامنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔غیرت تو مرغی سے سیکھو کہ جب اس کے بچوں پر چیل جھپٹتی ہے تو وہ تن جاتی ہے اور چیل کے سامنے اٹھتی ہے اور اس کے مقابلے کے لئے اڑا نہیں کرتی ہے۔جب خون خوار کتا جس کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں اس کے چوزوں پر حملہ آور ہوتا ہے تو قطع نظر اس کے کہ اس کی جان پر کیا بنے گی وہ بھرتی ہوئی اس کتے پہ جا پڑتی ہے۔یہ عام جانوروں کی غیرت ہے، تم ایسے ظالم لوگ ہو کہ خدا اور رسول کی عزت کی غیرت کے حوالے دیتے ہو اور قرآن میں جہاں جہاں ان کی