ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 223 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 223

223 بد بخت دنیا والوں کے پاس نہیں آیا مگر ضرور اس سے وہ ٹھٹھا کرتے رہے اور تمسخر اڑاتے رہے۔کیا اس کا نام ہتکِ رسالت ہے یا نہیں ہے؟ یہ سوال اٹھتا ہے۔اگر رسولوں کا مذاق اڑانا گستاخی نہیں ہے اور ہتک نہیں ہے تو پھر ہتک کا تمہارا تصور کیا ہے؟ اور اگر ہے اور یقینا ہے تو اس کی سزا قرآن کریم نے کہاں مقرر فرمائی ہے؟ پھر فرمایا: وَ مَا يَأْتِيهِم مِّنْ نَّبِيِّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُن ( زخرف:8 ) میں بھی یہی مضمون ہے۔سورۃ الاعراف آیت 61 کے حوالے سے ہے نوح کو ان کی قوم نے کہا انَّا لَنَاكَ فِي ضَلالٍ مُّبِينٍ ہم تمہیں اول درجے کا گمراہ پاتے ہیں، کھلا کھلا ضلالت والا ، راہ راست سے ہٹا ہوا۔مولویوں کے نزدیک پتہ نہیں یہ ہتک ہے یا نہیں ہے ،مگر میں عام انسان کو جس کی عقل اس قدر مسموم نہیں ہوچکی کہ اپنے عقائد کے چکر میں پڑ کر اس میں سوچنے کی طاقت بھی نہ رہی ہو، ان کو مخاطب کرتے ہوئے میں بتاتا ہوں کہ یہ مسلسل ہتک کی باتیں ہیں اور شدید گستاخی کے واقعات ہیں جو قرآن کریم کی رو سے انبیاء علیھم السلام کے ساتھ پیش آتے رہے۔پھر حضرت نوح کو کہاـــــلـــوا مَجْنُون و ازدجر (القمر: 10) کہ یہ شخص مجنون ہے اور ایسا دھتکارا ہوا ہے جو چاہے اس کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کا سلوک کرے اسے ذلیل ورسوا کرے، کھلی چھٹی ہے۔حضرت نوح کے متعلق کہلان هُوَ إِلَّا رَجُلٌ بِهِ حِنَّةٌ (المومنون: 26) اِن هُوَ إِلَّا رَجُلٌ بِه جِنَّة اس کو تو جن چڑھ گیا ہے اور جن چڑھنا، شیطان چڑھنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا الهَتِكُمُ (الانبیاء: 69) کہ یہ ایسا شخص ہے کہ اس کی سزا آگ میں جلائے جانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔اگر تم اپنے معبودوں کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو آگ میں جلا دو۔یہ عزت افزائی کے کلمات ہیں جو قرآن کریم نے ابراہیم کے واقعات میں بیان فرمائے ہیں !؟ پھر لوط کے متعلق کہا قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنْتَهِ يَلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ (الشعراء:168) انہوں نے لوظ سے کہا کہ اگر تو باز نہیں آئے گا تو ہم تجھے ضرور دیس نکالا دے دیں گے، اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے۔اور حضرت صالح سے کہا قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحْرِينَ (الشعراء: 154 ) کہ تجھ پر تو جادو ہو چکا ہے، اپنے ہوش ، عقل ٹھکانے نہیں رہے جادو والے سے ہم کیا بات کریں۔پھر مزید اس پر یہ بات بڑھائی بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اشر ( القمر : 26) وہ بہت سخت جھوٹا اور حد سے بڑھا ہوا ہے اپنی بے راہ روی میں۔حضرت ہوڈ کے متعلق الاعراف :67 میں لکھا ہے قوم نے کہا نا لَنَراكَ فِي سَفَاهَةٍ اے ہود ! ہم تو تجھے بہت ہی بیوقوف دیکھ رہے ہیں، پرلے درجے کا احمق انسان ہے وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الكذابين صرف یہی نہیں ایک بیوقوف ، اوپر سے جھوٹا یعنی جیسے کہتے ہیں کریلا اور نیم چڑھا تو کہتے ہیں بیوقوف تو خیر ہے ہی، اوپر سے جھوٹا بھی نکلا ہے۔یہ عزت افزائی کے کلمات مولویوں کے نزدیک ہوں گے کیونکہ ان میں کوئی سزا مقرر نہیں اگر ہتک رسول ہوتی تو سزا بھی تو ہونی چاہئے تھی۔حضرت موسیٰ اور ہارون کے متعلق فرعون نے کہا اور فرعون کی قوم نے: أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا