ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 222
222 پیش کرتے ہیں تو ان آیات پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔ذکر تک نہیں ملتا ان آیات کا ان کی باتوں میں۔حالانکہ انصاف کا تقاضا، تقویٰ کا تقاضا یہ تھا کہ اگر ایک مضمون کو چھیڑا گیا ہے اور اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں موجود ہیں تو ان کو نظر انداز کر کے تم کوئی استدلال کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ان کو لو، اکٹھا کرو، پھر دیکھو کہ قرآن کریم کی کھلی کھلی محکمات کیا تعلیم دے رہی ہیں اور کیا بات تم پر کھول رہی ہیں۔اس کے خلاف جو کچھ بھی ہے وہ رڈ کرنے کے لائق ہے۔۔ملاں مسلمانوں کا مزاج بگاڑ کر ایک خوفناک مزاج پیدا کر رہا ہے۔جو گستاخی رسول ہے یہ وہ ظالمانہ کردار ہے جس کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف، قرآن کی طرف منسوب کرنا اتنی بڑی گستاخی ہے کہ اگر کسی گستاخی کی کوئی سزا ہے تو اس گستاخی کی سزا ہونی چاہئے۔قرآن تو سزا نہیں پیش کرتا۔حدیث سے تو کوئی سزا ثابت نہیں۔لیکن جن لوگوں کے نزدیک ہے انہوں نے مولویوں کا منہ کیوں کالا نہیں کیا، کیوں ان کو نہیں پکڑا کہ تم نے بڑی بدبختی کی ہے، انصاف کے سارے تقاضے بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو پارہ پارہ کرتے ہوئے تم نے قرآن کی طرف غلط تعلیم منسوب کی۔محمد رسول اللہ کے کردار کی طرف غاط تعلیم منسوب کی اور پھر اپنی طرف سے خود ہی منصف اور خود ہی عادل بن بیٹھے اور فیصلہ وہ کیا جس کا عدل سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔جن ملکوں میں یہ خوفناک مزاج پیدا کیا جا رہا ہے اس کی پہچان اس سے بڑھ کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ کوئی مولوی، بد بخت سے بد بخت مولوی اگر اس کو کہا جائے کہ خدا کی قسم کھا کے یہ اعلان کرو کہ میرے نزدیک حضرت محمد رسول اللہ کے وقت میں ایسا واقعہ ہوتا تو محمد رسول اللہ اور آپ کے ساتھی یہ حرکتیں کرتے ؟ کبھی ایسی قسم کھانے کی جرات نہیں کر سکتا۔جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے، جانتا ہے کہ قرآن اور محمد رسول اللہ کی سنت سے ان باتوں کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔مخالفین انبیاء کے الفاظ قرآن نے استعمال فرمائے جہاں تک انبیاء کی توہین کا تعلق ہے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔چند آیات نمونہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں مسلسل انبیاء کی تو ہین کا ذکر چلتا ہے اور کسی ایک جگہ بھی انسان کو اس تو ہین کے نتیجے میں ، تو ہین کرنے والے کو سزا دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔فرماتا ہے : كَذَلِكَ مَا آتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ محنون (الذاریات: 53 ) اسی طرح ان سے پہلے جو رسول آتے رہے ہیں یعنی پہلے رسولوں کا ذکر ہے ان کا ذکر کر کے فرمایا: اسی طرح ان سے پہلے بھی جو رسول آتے رہے ہیں یعنی پہلے جب بھی آتے تھے اُن کو اُن کے مخالفین نے کہا ، یا ان کو جادوگر کہا یا پاگل قرار دیا۔اور پاگل اور جادو گر قرار دینا، کیا مولویوں کے نزدیک عزت کے کلمات ہیں یا تذلیل کے کلمات ہیں۔اگر تذلیل کے کلمات ہیں تو بتائیے ان کی کہاں سزا قرآن کریم نے مقرر فرمائی ہے۔یہ آیت سورہ الذاریات سے لی گئی ہے۔سورۃ یسین آیت 31 میں ہے۔مَا يَا تِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُدَ ایک بھی رسول ان