ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 221
221 إِذَا سَمِعْتُمُ ايْتِ اللهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِةٍ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کتاب میں یہ تعلیم نازل فرمائی ہے، یعنی عرش سے یہ تعلیم اُتاری ہے۔تمہارے لئے کہ جب بھی تم سنو، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا جائے اور ان سے تمسخر کیا جائے۔اور یا درکھیں کہ " آیات اللہ " کا مضمون بہت ہی وسیع ہے۔تمام انبیاء بھی آیات اللہ میں شامل ہیں اور تمام کتب آیات اللہ میں شامل ہیں تو فرمایا کہ تمہارے لئے ہم نے آسمان سے اس کتاب یعنی قرآن میں یہ تعلیم نازل فرمائی ہے کہ جب بھی تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جاتا ہے یا ان سے تمسخر کیا جاتا ہے تو کیا کرو؟ تلوار میں لے کر ان لوگوں کی گردنیں اڑادو؟ ہر گز نہیں۔فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمُ ان کے پاس نہ بیٹھا کرو۔ہمیشہ کے لئے بائیکاٹ ہے ! وہ بھی نہیں۔فرمایا حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِہ ہاں جب وہ دوسری باتیں شروع کریں تو معاشرے کے جو ملنے جلنے کے آداب ہیں ان کے مطابق ان سے بے شک ملنا جلنا ر کھو لیکن اس مجلس میں نہیں بیٹھنا جس میں خدا تعالیٰ کی آیات کی گستاخی ہو رہی ہو۔یہ قرآنی تعلیم اور قرآنی سزا ہے جو اتنی وضاحت سے پیش کی گئی ہے کہ فرمایا ہے کہ آسمان سے ہم نے تمہارے لئے بطور خاص یہ تعلیم اتاری ہے۔اگر تم بیٹھو گے ان کے ساتھ تو کیا ہوگا ؟ إِنَّكُمُ اِذَا مِثْلُهُم خدا کو تو کوئی نقصان نہیں ، اس کے رسولوں کو ، اس کی آیات کو تو کوئی نقصان نہیں، فتویٰ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو ضائع کر بیٹھو گے۔اور تم ان جیسے نہ ہو جاؤ اس لئے ہم تمہیں بچانے کی خاطر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اس موقعہ پر ان سے اٹھ کر الگ ہو جایا کرو۔جہاں تک ان کی سزا کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ جَامِعُ الْمُنفِقِينَ وَالْكَفِرِينَ فِى جَهَنَّمَ جَمِيعًا اس کی پرواہ نہ کرو۔یہ اللہ کا کام ہے تمام منافقین اور تمام کافروں کو اللہ تعالیٰ جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔پھر فرمایا وَإِذَا رَايَتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي ابْتِنَا فَاعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ (الانعام: 69) - اور اے مخاطب ! اول مخاطب چونکہ واحد ہے اس لئے اول مخاطب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہیں۔وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَحُوضُونَ فِي ايتنا جب تو دیکھے ان لوگوں کو جو ہماری آیات میں تمسخر کرتے ہیں، تضحیک سے کام لیتے ہیں اور کئی کئی قسم کی باتیں بناتے ہیں۔فَاعْرِضْ عَنْهُمُ ان سے اعراض کر ، ان سے منہ پھیر لے۔حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَیرہ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں پھر ان سے دنیاوی روابط رکھے جاسکتے ہیں۔یہ ہے ہے عظمت قرآن۔یہ ہے کلام اللہ کا حوصلہ اور جگر ا۔یہ وہ تعلیم ہے جو مسلمانوں کے علاوہ بطور خاص حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دی گئی۔ان آیات کے ہوتے ہوئے اس کے مخالف کو ئی معنی نشر کرنا یا قبول کرنا سراسر قرآن اور خدا کی گستاخی ہے۔پس اگر گستاخی کی کوئی سزا ہے تو ان لوگوں کوملنی چاہئے جو واضح طور پر قرآن کریم کی کھلی کھلی تعلیم کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور اس تعلیم کا انکار کرتے ہیں جو اللہ نے بطور خاص آسمان سے ان کے لئے نازل کی ہے اور اپنے من مانے معانی قرآن کو پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب بھی اپنے حق میں کوئی دلیلیں