ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 220 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 220

220 اتى الرحمن عبدًا واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے وہ اللہ کے حضور ایک غلام کی صورت میں حاضر ہوگا۔ایک مخلوق ، ایک بندے کی صورت میں حاضر ہوگا اور کوئی شخص اس کے بیٹے کے طور پر اس کے حضور حاضر نہیں ہوگا لقَدُ احْضَعْهُمْ وَعَدَّهُمْ عَذَا اللہ تعالیٰ نے ان کا گھیرا ڈال رکھا ہے اور ان کی گنتی سے خوب باخبر ہے، جانتا ہے کہ یہ کتنے لوگ ہیں ، کون ہیں ، کیا کچھ کرتے ہیں وَكُلُّهُمُ اتِيْهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ فَرْدًا ان میں سے ہر ایک، ایک ایک کر کے، انفرادی طور پر خدا کے حضور حاضر ہوگا۔یہ ہے وہ تو ہین خداوندی جو ایک مذہبی عقیدے کی بنیاد کے طور پر قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے اور اتنا سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے کہ قریب ہے اس عقیدے سے آسمان اور زمین اور پہاڑ پھٹ پڑیں لیکن اس کے باوجود انسان کو اختیار نہیں بخشا کہ وہ خدا کی گستاخی کرنے والوں کو کوئی بدنی سزا دے۔(مریم: 89 تا 96) پھر سورۃ کہف (آیات 6,5) میں بھی یہی مضمون بیان فرمایا ہے اور فرماتا ہے كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمُ بہت ہی خطرناک بات بہت ہی ظالمانہ بات ہے كَبُرت حد سے بڑھی ہوئی ، حد سے تجاوز کی ہوئی بات ہے إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا سوائے جھوٹ کے یہ لوگ اور کچھ نہیں کہتے۔یہ تو قرآن کریم کا بیان ہے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی تو ہین کا تعلق ہے اور مختلف جگہوں میں مختلف صورتوں میں جہاں تاریخ انبیاء کا ذکر ہے وہاں ان کے معاندین کا، خدا تعالیٰ کا تحقیر سے ذکر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ایک کے بعد دوسرے نبی کی تاریخ آپ پڑھتے چلے جائیں قرآن سے پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تمام قرآن میں اس بات کی قطعی گواہیاں موجود ہیں کہ انبیاء کے مخالفین نے اللہ تعالٰی کی گستاخیاں کیں اور اسی وجہ سے آنحضرت کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو ان کی باتوں سے دل آزار مت ہو، یہ ظالم تو اللہ کے خلاف بھی ایسی باتیں کرتے ہیں۔اور اللہ اور رسول کی ہتک کو اس طرح ایک جگہ باندھ دیا اور نصیحت صبر کی فرمائی نصیحت اعراض کی فرمائی۔کہیں یہ نہیں کہا کہ اس کے نتیجے میں تلوار ہاتھ میں لو اور ان کی گردنیں اڑا دو۔جہاں تک عمومی تکذیب کا تعلق ہے میں نے وہ سب آیات اس لئے چھوڑ دی ہیں کہ ہر قرآن کا قاری جانتا ہے، بہت زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وقت تھوڑا ہے لیکن کوئی دنیا کا مولوی ایک بھی ایسا نہیں جو اس اعلان کا جو میں یہاں کر رہا ہوں، اس کا انکار کر سکے۔قرآن کریم کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے خلاف گستاخانہ جملوں کا ذکر فرماتا ہے، خدا کی تضحیک، خدا کے ساتھ تمسخر کا ذکر فرماتا ہے اور کسی ایک جگہ بھی انسان کو اجازت نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کی ان گستاخیوں کا بدلہ اپنے ہاتھ میں لے۔آیات اللہ کی گستاخی کی سزا اس محفل سے اٹھ جانا ہے کتاب اللہ کی تضحیک کا جہاں تک تعلق ہے صرف قرآن ہی کی نہیں، اس سے پہلے تمام کتب کی تضحیک کی گئی اور قرآن کی بطور خاص تضحیک کی گئی۔سورۃ نساء آیت 141 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَدُ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَبِ أَنْ