ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 219 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 219

219 فرق پڑتا ہے اور وہ جو شرک رسالت تھا وہ بھی ہاتھ سے گیا، وہ معاملہ بھی ہاتھ سے گیا۔ثابت کر بیٹھے ہیں اپنے عمل اور اپنے عقیدوں سے کہ شرک فی الرسول کے اگر قائل ہیں تو یہ قائل ہیں اور جماعت احمد یہ کا بلا استثناء، بلا شک یہ عقیدہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد آپ کے غلاموں میں سے خدا کسی کو شرف بخشے تو بخشے غیر کی مجال نہیں ہے کہ امت محمدیہ میں دخل دے۔پس شرک فی الرسالت کس کا ہے اور کس کا نہیں، کوئی تو عقل کرو۔مگر جب عقل رہے ہی نہ باقی تو پھر قرآن کے اس فتوے نے صادر ہونا ہی ہونا ہے کہ اپنا بوجھ تم اتار بیٹھے ہو اور گدھوں کی پیٹھوں پہ لاد دیا ہے جن کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا لدا ہوا ہے۔" الفضل انٹر نیشنل 26 اگست 1994 ء) خطبہ جمعہ 29 جولائی 1994 ء ہتک رسول کا مضمون اللہ کی ہتک سے شروع ہوتا ہے " میں نے مضمون کا آغاز اس بات سے کیا تھا کہ سب سے اہم تو ہین تو اللہ کی ہے۔اللہ ہی کی ذات سے تعلق میں ہر نیکی کا وجود ہوتا ہے، ہر نیک شخص وجود میں آتا ہے خواہ وہ رسول ہو یا غیر رسول ہو۔تمام عزتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔اللہ کی عزت کو چھوڑ کر پھر کوئی عزت بھی باقی نہیں رہتی۔پس تک رسول کا مضمون اللہ کی ہتک سے شروع ہوتا ہے۔اس کو نظر انداز کر کے تم کن باتوں میں پڑ گئے ہو اور اللہ کی بہتک کا جہاں تک تعلق ہے قرآن کریم نے اس مضمون کو مختلف پیرایوں سے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے اور ایک بھی جگہ اللہ تعالیٰ کی ہتک کے نتیجے میں انسان کو اختیار نہیں بخشا کہ وہ اس کو کسی قسم کی کوئی سزا خود دے۔ایک آیت میں اس سے پہلے پڑھ چکا ہوں اس کے حوالے سے بات کر چکا ہوں اب ایک اور پہلو سے، قرآن کریم کا اسلوب بڑا عجیب ہے، ایک اور پہلو سے اس مضمون کو چھیڑتا ہوں جس کا قومی عقائد سے تعلق ہے۔قومی عقائد کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ یہ بیان فرما رہا ہے کہ بعض مذاہب کے عقائد ایسے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی کھلی کھلی تو ہین پائی جاتی ہے اور ان میں سب سے زیادہ توہین آمیز عقیدہ عیسائیت کی طرف منسوب فرمایا گیا۔وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمنُ وَلَدًا (مريم : 89) یہ اعلان کرتے ہیں کہ رحمن خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔لَقَدْ جِئْتُمُ شَيْئًا إِذَا دیکھو تم بہت ہی سخت بہت بری بات کر رہے ہو۔اتنی بری بات ہے کہ تگادُ السَّمواتُ يَتَفَطَّرُدْ مِنْهُ وَتَنشَقُ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًا (مریم: 90) یہ بات اتنی خطرناک ہے کہ اس سے آسمان پھٹ سکتے ہیں اور زمین دو نیم ہو سکتی ہے ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتی ہے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو سکتے ہیں۔جس کا خدا پر ایمان ہو اس کی طرف سے اس سے بڑی گستاخی نہیں ہو سکتی کہ اس نے اپنے بیٹے بنالئے ہیں یا اس کی کوئی اولاد ہے ان دعوا لِلرَّحمنِ وَلَدًا کس بات سے آسمان پھٹ سکتے ہیں، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو سکتے ہیں ،زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتی ہے، دوبارہ دہرایا ہے اَن دَعَوُا لِلرَّحمنِ وَلَدًا کہ انہوں نے رحمن کی طرف اولاد منسوب کر دی ہے۔وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا حالانکہ اللہ کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنالے۔اِن كُلُّ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا