ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 218
218 کیا عیسی کے آنے سے شرکت فی الرسالت نہیں ہوگی اور پھر یہ خیال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے پہلے سارے شریک منظور، آپ کے وصال کے بعد شریک منظور نہیں تو اس بات کو تو ان کے عقیدے کھلم کھلا جھٹلا رہے ہیں۔اس قدر دوغلا پن، اس قدر منافقت ، اتنا جھوٹ۔قوم کو بتاتے نہیں یہ دوسرے سانس میں کہ عیسی ابن مریم نازل ہوگا اور نبی اللہ کے طور پر نازل ہوگا!۔اور کیا ان کے فتوے شائع ہوئے نہیں ہیں کہ وہ امت میں آئے گا اور امت میں نبوت کرے گا اور جو اس کی نبوت سے انکار کرے گا وہ امت محمدیہ سے باہر نکل جائے گا۔پکا کافر اور پکے سے پکا کافر ہو جائے گا !!۔تو نبوت کے تو خود قائل ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد آنے والے کے قائل ہیں لیکن مشر کا نہ نبوت کے یہ قائل ہیں ، ہم نہیں۔ہم جس نبوت کے قائل ہیں وہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں مسیح پیدا ہوگا آپ کے غلاموں میں سے اٹھے گا اور آپ کی غلامی میں ہر شرف پائے گا۔یہ شریک کو بلاتے ہیں۔آج سب سے بڑی شریک مسلمانوں کی عیسائیت ہے اور عیسائیت کے رسول کو امت محمدیہ میں نازل کرتے ہیں اور کہتے ہیں شرک فی الرسالت برداشت نہیں کر سکتے۔اور پھر شرک کیا ہوتا ہے!۔اس کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ یہ ایسے نبی کی رسالت اور نبوت کو تسلیم کریں گے ، اس کے کہے میں چلیں گے، نبی اس کو کہا کریں گے، اس کی نبوت کا کلمہ پڑھیں گے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے و رَسُولًا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ (آل عمران: 50) یہ جو عیسی تھا اس کو ہم نے بنی اسرائیل کا نبی بنا کے بھیجا تھا امت محمدیہ کا نبی کبھی نہیں بنایا۔قرآن کہے گا بنی اسرائیل کا نبی۔مولوی کہیں گے نہیں ، بنی اسرائیل ہی کا منظور ہے کیونکہ ہم تو مرے جاتے تھے امت محمدیہ میں تو ناممکن تھا کہ کوئی پیدا ہو جائے اس لئے شکر کر وخدا کا۔غیر قوموں سے ہی ، آیا تو سہی اور اس بے چارے نے دو ہزار سال قید تنہائی کائی ہے اب اس کا انکار کرو گے ظلم نہ کرو، جیسا کیسا بھی ہے قبول کرلو، چاہے امت موسوی کا ہو، اس سے کیا غرض ہے، نبی چاہئے تھانا نبی آ گیا۔پر نبی چاہئے کیوں تھا؟ نبوت تو بند ہے۔بند کیوں ہوئی اگر چاہئے تھا!؟ پہلے ان تضادات کو تو حل کر لو پھر یہ بڑھکیں مارو جو تم مارتے ہو اور کہو کہ شرک فی النبوة منظور نہیں ،مشرک خود ہو، نبی کے قائل ہو لیکن غیر نبی کے قائل ہو۔اس نبی کے قائل ہو جس کی امت نے سب سے زیادہ اسلام کی رقابت کی ہے، اسلام کے خلاف حسد کیا ہے۔اسے اپنا سردار ماننے کے لئے تیار بیٹھے ہو اور ابھی کہتے ہوشرک فی الرسالت کے ہم قائل نہیں۔شرک فی اللہ کے تو قائل ہیں ہی، وہ تو تم مان بیٹھے ہو۔اب شرک فی الرسالت والا قصہ بھی ساتھ ہو گیا۔نہ وہ رہانہ وہ رہا۔تمہاری مثال تو اس بے وقوف تیل ڈلوانے والے کی سی بن گئی ہے جو چھوٹا برتن لے کر زیادہ تیل کے پیسے لے کے گھر سے نکلا اور برتن کے پیندے میں بھی تھوڑی سی جگہ بنی تھی ، کپ الٹا سا بنا ہوتا ہے۔اس نے جب تیل خریدا تو کچھ تیل، چونکہ پیسے زیادہ دے بیٹھا تھا، بچ گیا تو اس نے اس کو الٹادیا اور کہا باقی اس طرف ڈال دو۔دکاندار نے کہا ہیں ، ہیں ! یہ کیا کرتے ہو وہ تو گر گیا۔اس نے فوڑ اسیدھا کر دیا اور جو تھا وہ بھی گیا۔ان کی تو شرکوں کا یہ حال ہے وہ بڑا برتن تو خدا والاخو الٹا بیٹھے کہ دیا یہ نہیں ہمیں اس کی پر واہ کوئی نہیں اللہ کا شرک کیا