ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 217
217 ہے کہ وہ لوگ جن کو اسلام کی ادنیٰ بھی شدھ بدھ ہو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نعرے میں کوئی جان نہیں بالکل اسلام کے برعکس ہے۔سارے عالم پر نگاہ دوڑا کر دیکھ لیجئے ، تمام مذاہب کی کتب کا مطالعہ کیجئے ، ایک بھی ایسا نبی نہیں ہے، جس نے کسی اور نبی کی تصدیق کو اپنے ایمان کی تصدیق میں شامل کیا ہو۔بدھ اپنے کومنواتا ہے اور مطمئن ہو کر چلا جاتا ہے۔کرشن آتا ہے اور اپنے آپ کو منوا کر مطمئن ہو کے چلا جاتا ہے۔رام نازل ہوتا ہے اور اپنے آپ کو منوا کر چلا جاتا ہے۔عیسی علیہ السلام بھی اپنی منوا کر چلے گئے۔اور موسیٰ نے بھی یہ شرط نہیں داخل کی اپنے ایمان میں کہ جب تک دوسرے انبیاء کو بھی نہ مانو مجھے تم تسلیم نہیں کر سکتے۔ایک ہی وہ رسول تھا یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کی تفہیم تو حید کا ایک عظیم جلوہ ہے کہ خدا نے آپ کو یہ تعلیم بخشی کہ جب تم کہتے ہولَا إِلهَ إِلَّا اللہ تو خدا کا کوئی شریک نہیں لیکن نبی بہت ہوں گے اور ہر ایک کی تمہیں عزت کرنی ہوگی اور ہر ایک کو بعض پہلوؤں سے برابر دیکھنا ہوگا چنانچہ یہ اعلان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف منسوب فرمایا گیا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ ربِّهِ وَالمُؤْمِنُون یہ رسول ان سب باتوں پر ایمان لے آیا ہے جو اللہ کی طرف سے اس رسول پر اتاری گئیں۔(ان باتوں کی خبر بھی پاکستان کو نہیں پہنچی) - آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالمُؤْمِنُون اور سارے مومن جو محمد رسول اللہ کے مومن ہیں وہ ایمان لے آئے ہیں ان باتوں پر کُلُّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِه ایک رسول پر ایمان نہیں لائے۔تمام کے تمام، اللہ پر ایمان لے آئے ہیں، فرشتوں پر ایمان لے آئے ہیں ، ایک کتاب نہیں تمام کتابوں پر ایمان لے آئے ہیں ( شرک فی القرآن بھی اب اس کو آپ کہہ دیجئے )۔وَرُسُلِہ اور اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِے اور کہتے ہیں ہم عہد کرتے ہیں اے خدا کہ ہم تیرے بھیجے ہوؤں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کریں گے اور ایک ہو یا لاکھ ہوں ہمارے نزدیک یہ شرک فی النبوة نہیں ہے، یہ تو حید ہی کا کرشمہ ہے کہ اس توحید سے جتنے جلوے پھوٹیں گے وہ سارے سر آنکھوں پر ، ان سب کے سامنے ہم سر تسلیم خم کریں گے۔یہ ہے قرآن کا بیان۔یہ ہے قرآن کی رو سے توحید فی الوہیت اور توحید فی الرسالت۔پھر کہتے ہیں لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ قف وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المصيره (البقرہ:286) اے خدا ہمارے لئے اس کے سوا اب رہا کیا ہے کہ نہیں اور اطاعت کریں اور وہ آواز جس رسول کی طرف سے آئے اگر وہ تیری آواز ہے اور تبدیل نہیں ہوئی تو ہر آواز سر تسلیم خم کرنے کے لائق ہے۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو پرانے انبیاء کی باتیں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَبِهُدَهُمُ اقْتَدِہ اے محمد ان سب رسولوں کی ہدایت کے مطابق تو بھی پیروی کر۔یہ کیسے ممکن ہے کہ محمد رسول اللہ جو سب ہدا یتوں سے بڑھ کر ہدایت لانے والے تھے ان کو حکم ہو کہ ان کی ہدایتوں کی پیروی کر۔مراد وہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں کہ ان کی ہدایت کی کوئی بھی قیمت نہیں اگر وہ خدا کی طرف سے نہیں تھیں اور اگر خدا کی طرف سے تھیں تو کون ہے جو اس ہدایت کے سامنے سر بلند کر سکے۔یہ وہ توحید فی الرسالت ہے جس کی یہ باتیں کر رہے ہیں۔