ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 216 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 216

216 آپ کا دل تو وہی تھا جوخدا کا دل تھا جو خدا کی باتیں تھیں وہی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے منہ کی باتیں بن جایا کرتی تھیں۔اللہ کی تو ہین بارے آنحضرت کا کردار جنگ احد کے موقع پر جب ابوسفیان بار بار نام پکار پکار کر غیرت دلا رہا تھا کہ ہو زندہ تو آؤ میدان میں نکلو۔وہ چاہتا تھا کہ پتہ چلے مسلمان کہاں چھپے بیٹھے ہیں تو اس نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نام سے مسلمانوں کی غیرت کوللکارا اور کہا کہاں ہے محمد اگر وہ زندہ ہو تو سامنے آئے۔اس پر صحابہ جواب دینے لگے مگر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے اور زور سے ان کو دبا دیا کہ نہیں کوئی جواب نہیں دینا۔پھر یکے بعد دیگرے مختلف صحابہ کے انہوں نے نام لئے۔بیان کرنے والے کہتے ہیں ابو بکر کا نام لیا عمر کا نام لیا اور دوسروں کے نام لئے۔ہر دفعہ جو غیرت میں کوئی صحابی اٹھتا تھا تو اس کو دبا دیا جاتا تھا کہ نہیں، کچھ نہیں کہنا۔یہاں تک کہ اس نے اعلان کیا اعل هبل اعل مبل که مبل ذات کی جے ہو۔مبل کا نعرہ لگا و وہ بلند ہو۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یہ نعرہ بن کے بے چین ہو گئے اور فرمایا جواب کیوں نہیں دیتے ، جواب کیوں نہیں دیتے۔وہ خدا پر ھبل بت کی برتری کا اعلان کر رہا ہے اب کیوں جواب نہیں دیتے ، اب کیوں خاموش ہو۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ فرمایا کہو الله اعلى وَاجَلُّ الله أعلى وَأَجَلَّ اور احد کی وادی اللَّهُ أَعْلَیٰ وَاَجَل کے نعروں سے گونج اٹھی ( بخاری کتاب المغازی غزوة احد )۔وہ چند صحابہ رضی صحابہ تھے جو ایک غار کی پناہ میں بیٹھے ہوئے تھے مگر جب خدا کی غیرت کا سوال آیا ، جب شرک خداوندی کا سوال آیا تو نہ ناموس مصطفوی خاموش رہ سکتی تھی ، اس وقت نہ محمد رسول اللہ کی جان کی کوئی قیمت آپ کے اپنے نزدیک باقی رہی، نہ صحابہ کی عزتوں اور ان کی جانوں کی کوئی قیمت باقی رہی کیونکہ یہ سارے سلسلے اللہ ہی کی محبت اور اس کے عشق میں تھے اور اگر یہ نہ ہو تو رسالت کی حیثیت ہی کوئی نہیں۔اگر تو حید نہیں تو رسالت کی کوئی بھی حیثیت نہیں، کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔مگر اس قدر جاہل بنا دیا گیا ہے اس قوم کو کہ جیسا کہ میں نے وہ آیت پڑھی تھی کہ جب خدا تعالیٰ انسانوں پر شریعت کا بوجھ لا دتا ہے اور وہ اس بوجھ کوا تار پھینکتے ہیں جیسا کہ تو میں اتار پھینکتی ہیں تو پھر وہ بوجھ گدھوں پر لاد دیا جاتا ہے۔اور گدھے ان کے سردار بنا دیے جاتے ہیں۔۔یہ صورت حال ہے جو بعینہ ہمارے پیارے وطن ، بد نصیب پاکستان پر صادق آ رہی ہے۔تمام انبیاء کوعزت دینا اسلامی تعلیم ہے جہاں تک اللہ کی تو ہین کا تعلق ہے وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔جہاں تک شرک خداوندی کا تعلق ہے یہ اور بات ہے لیکن شرک کا مطلب خدا کی تو ہین نہیں لیا گیا یہ جو مبحث کا اختلاط ہے اس کو اب میں کھول کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس سے پہلے کہ میں یہ بات شروع کروں یہ میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ جب کہتے ہیں شرک فی الرسالت برداشت نہیں تو مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے علاوہ کوئی اور نبی برداشت نہیں۔اتنا جاہلانہ نعرہ