ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 215
215 فرضی قصے ہیں۔مگر مولویوں کے ہاتھ میں حکومت نے جماعت احمدیہ کی گردن تھما دی تھی یہ کہ کر کہ مرتد کا قانون تو ہم بنا نہیں سکتے ، مجبوری ہے، بین الاقوامی قوانین اجازت نہیں دیتے اس لئے اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے جتنے احمدیوں کو چاہو تہم کر کے ان کو تختہ دار پر چڑھا دو۔اس میں حکومت تم سے تعاون کرے گی۔یہ سازش تھی جس کے متعلق ان کو وہم پیدا ہوا کہ کہیں حکومت اس سازش سے پھر نہ گئی ہو یعنی اپنا کردار ادا کرنے سے پھر نہ گئی ہو۔اس پر انہوں نے شور ڈالا۔۔۔۔۔۔۔شرک فی اللہ کی کوئی پرواہ نہیں شرک فی الرسالت برداشت نہیں پہلا تو اس کا حصہ ہے اللہ کا شرک برداشت ہو جائے گا رسول کا شرک برداشت نہیں کریں گے۔اللہ اس بارے میں کیا کہتا ہے، فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًاه (النساء: 49) کہ اللہ تعالیٰ اپنا شریک بنانا کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔خدا فرماتا ہے کہ جو میر اشرک کرے گا میں اسے معاف نہیں کروں گا۔اس کے سوا جو بھی گناہ ہو میں وہ معاف کر سکتا ہوں اور میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں۔وَيَغْفِرُ مَادُونَ ذلِكَ لِمَنْ يَشَاء بخشتا ہے اس کے سوا ( یعنی اللہ کے شرک کے سوا) ہر چیز بخش سکتا ہے لِمَنُ يَّشَاءُ جس کے لئے چاہے وَمَنْ يُشْرِكُ بِاللهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا اور جو اللہ کا شرک کرے وہ بہت ہی بڑا افتراء، بہت ہی کھلا کھلا افتراء کرنے والا ہے۔لیکن ان علماء نے پاکستان کے دماغ اور سوچ اور کردار کو اس حد تک ذلیل اور رسوا کر دیا ہے کہ خدا کے اس دعوے کے برعکس یہ اعلان کیا جا رہا ہے اور عدالتوں میں اعلان کیا جارہا ہے کہ ہم رسالت کا شرک برداشت نہیں کریں گے۔خدا کا شرک ہوتا ہے تو ہوتا پھرے اور کر ہی رہے ہیں سارے، ایک دوسرے کو خدا بنائے بیٹھے ہیں، قبروں کی پوجا ہو رہی ہے کون سا شرک ہے جو وہاں جاری نہیں ہے اور جس کے خلاف کسی قسم کا کوئی احتجاج پایا جاتا ہو۔مردہ پرستی تو اتنی عام ہوتی جارہی ہے کہ اس پر چادر چڑھانا یوں لگتا ہے کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا کی مغفرت کی چادر کی لپیٹ میں آگئے۔کسی نے خوب کہا تھا کوئی غریب، فقیر ایک قبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو کوئی صاحبہ آئیں اور بہت بڑی چادر اس کو پہنائی۔اس نے کہامر دوں کو پہنا رہی ہے یہ غریب نگا بیٹھا ہوا ہے اس کو چادر نہیں پہنا تیں۔یہ اس قوم کا حال ہے عورتوں کے سروں سے چادر میں اتر گئی ہیں۔غریبوں کو تن ڈھانپنے کے لئے چار بالشت کپڑا میسر نہیں آتا اور قبروں پر بڑی بڑی چادریں پہنانے والے وزراء اعظم اور گورنر اور بڑے بڑے مشاہیر پہنچتے ہیں اور تصاویر کھچوا لیتے ہیں اور ان کی بخشش کے سامان ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان کا مسلک یہ ہے کہ اللہ کے شرک کا تو کوئی حرج ہی نہیں ہے شرک فی الر سالت برداشت نہیں ہوگا۔اور شرک فی الرسالت ہے کیا !؟ یہ بھی تو سمجھا جائے۔لیکن اس سے پہلے میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اپنا موقف بھی آپ کو بتا دوں آپ اس موضوع پر کیا کہتے تھے،