ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 214
214 کروالو گے۔اسے ان کی بد بختیوں کے تیروں کا نشانہ بنا دو گے۔پس کتنی پاکیزہ کتنی گہری، کتنی عقل پر بنی تعلیم ہے۔نہ قوم کو پستہ ، نہ مولویوں سے اس قسم کے سوال کئے جاتے ہیں بلکہ ڈر کے مارے جان نکلی جاتی ہے۔اوہو! ہو! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کی اور رسولوں کی عزت کا معاملہ ہو اور ہم کوئی اور کارروائی کر بیٹھیں۔پتہ ہی نہیں عزت ہوتی کیا ہے۔پتہ نہیں قرآن کیا کہہ رہا ہے۔اللہ کے حوالے سے بات شروع ہونی چاہئے۔قرآن نے اللہ ہی کے حوالے سے بات شروع کی ہے اور یہ تعلیم دی ہے۔اب یہ سوال ہے کہ ہیں تو وہ جھوٹے ، ہم تو جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں، تو پھر خدا یہ کیوں کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کہنا۔وجہ بیان فرمائی كَذلِكَ زَيَّنَّا لِكُلّ أُمَّةٍ عَمَلَهُم کہ تم لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ نفسیاتی لحاظ سے ہر شخص اپنے اعمال کو اچھا سمجھ رہا ہوتا ہے۔وہ لوگ جو جھوٹے خداؤں کی عبادت کرتے ہیں ان کے دل میں واقعی ان خداؤں کی محبت ہوتی ہے اور ہر شخص اپنے عمل اور اپنے عقیدے کو خوب صورت بنا کے دیکھ رہا ہوتا ہے پس اگر وہ لوگ جوان کو بدنظر سے دیکھتے ہیں یا حقیقت میں مکروہ سمجھتے ہیں وہ ان پر کھلے حملے کرنے شروع کریں تو مذہب کی دنیا میں ایک عام خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس کا کوئی نیک انجام نہیں ہوسکتا۔تو پھر حل کیا ہے؟ فرمایا تم إلى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ گھبراہٹ کیا ہے، جلدی کیا ہے۔تم سب نے خدا کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ثُمَّ إِلى رَبِّهِمُ مَّرْجِعُهُمُ ان سب کا بالآخر انجام یہ ہے کہ خدا کے حضور لوٹائے جائیں گے فيُنَبِّئُهُمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُون وہ ان کو بتائے گا کہ ان کے اعمال کیسے تھے، حسین تھے یا بد تھے۔پس اگر خدا نہیں ہے تو پھر مولویوں کی جلدی اور گھبراہٹ قابلِ فہم ہے۔پھر اس دنیا میں اگر ان کی سزا سے کوئی بیچ کے نکل گیا تو پھر کسی کے ہاتھ بھی نہیں آئے گا۔اس لئے ان کی گھبراہٹ واقعتا قابل فہم ہے۔جب خدا ہی کوئی نہیں تو جو سزا دینی ہے اس دنیا میں دے لومرنے کے بعد پھر کیا ہونا ہے۔لیکن اگر خدا ہے اور خدا ہے اور خدا ہی کے نام پر سارے قصے ہیں تو پھر انسان کو کسی گھبراہٹ اور تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ہر ایسے بد بخت کو خدا خود سزا دے گا جو اللہ تعالیٰ کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔اور اس ساری آیت میں کہیں اشارہ یا کنایہ بھی بندوں کو اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ کی ناموس کے نام پر ایک دوسرے پر تلوار چلانا شروع کر دیں۔" (الفضل انٹرنیشنل 19 اگست 1994 ) خطبہ جمعہ 22 جولائی 1994ء ناموس رسول پر فدا ہونے والی صرف جماعت احمد یہ ہے۔۔۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے اور میں اب بھی آگے جا کے ثابت کروں گا سب سے زیادہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ناموس پر فدا ہونے والی جماعت احمد یہ ہے۔سب سے زیادہ ناموس مصطفی میں فدا اور عاشق اور دن رات درود بھیجنے والی اور تمام دنیا میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اعلیٰ اور برتر مقام کو ثابت کرنے اور قائم کرنے والی جماعت احمدیہ ہے۔اس لئے جو مرضی کہتے پھریں یہ تو فرضی باتیں کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کو تو ان قوانین سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں اور آگے جا کر جیسے بات کھلے گی یہ سب