ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 213 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 213

213 استعمال کریں اور نعوذ بالله من ذلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے خلاف جتنی چاہیں گندی زبان استعمال کریں اور اس پر ان کے خلاف تمہیں کوئی عذر نہیں ہوگا۔توہین رسالت سے بڑھ کر تو ہین خداوندی ہے کیونکہ قرآن کریم نے یہ مسئلہ اللہ کے حوالے سے اٹھایا ہے اور اصل بات اللہ کے حوالے سے ہی شروع ہونی چاہئے۔یہ عجیب بات ہے کہ مولوی تو ہین رسالت کی باتیں کرتے ہیں تو ہین خداوندی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔اس لئے بات وہاں سے شروع ہوگی جہاں سے قرآن شروع کرتا ہے، جہاں سے عقل کا تقاضا ہے کہ بات شروع کرو۔انبیاء کوئی عزتیں گھر سے تو نہیں لے کے آئے ، انبیاء کو تو تمام تر عزت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوئی ہے۔اگر اللہ ہی کی عزت باقی نہ رہے تو انبیاء کی عزت کو کسی نے کیا کرنا ہے۔اس لئے بات اللہ کے حوالے سے شروع ہوگی۔پہلا سوال یہ اٹھتا ہے اور قوم کو چونکہ علم نہیں کہ مذہب کیا ہے یا قرآن کیا کہتا ہے۔اس لئے میں ان کو یہ حوالہ دے کر سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آپ کو کم سے کم مولویوں سے یہ پوچھنا تو چاہئے کہ اللہ کی عصمت کا بھی قرآن کریم میں کہیں ذکر ہے کہ نہیں؟ کہیں اللہ کی تو ہین کا مضمون بھی بیان ہوا ہے کہ نہیں ؟ اگر ہوا ہے تو دکھاؤ کہاں ہوا ہے ! اور پھر وہاں وہ جگہ بھی بتاؤ جہاں اس کے خلاف کسی سزا کا اعلان کیا گیا ہو۔یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا جا تا !؟ اسمبلی کے کسی ممبر نے کسی ملاں سے مڑ کے یہ سوال نہیں کیا لیکن ملاں نے تو آپ کو جواب نہیں دینا۔میں آپ کو بتا تا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوّام بِغَيْرِ عِلْمٍ كتنا عظیم جواب ہے اس سوال کا ! اس سوال کا بھی حل آ گیا جو میں نے فرضی طور پر اٹھایا تھا کہ کسی کوسچا سمجھوتو عزت کرویا جھوٹا سمجھنے کے باوجود بھی تمہارا فرض ہے کہ عزت کرو اور قوم کا دل نہ دکھاؤ۔قرآن کریم اللہ کے حوالے سے یہ مسئلہ اٹھا رہا ہے۔فرماتا ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دون اللہ تمہیں ہم اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ ان جھوٹے خداؤں کو گالیاں دو جن کو وہ خدا کے سوا معبود بنائے بیٹھے ہیں یہ اللہ کی تعلیم ہے۔اس کے مقابل پر ملاں کی بد بخت تعلیم کے منہ پر تھوکنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔کتنی ظیم تعلیم ہے۔مسلمانوں کو روکا جارہا ہے کہ تمہارا فرض ہے کہ جس کو کوئی خدا سمجھتا ہے اس سے بحث نہیں ہے کہ وہ سچا ہے کہ جھوٹا ہے، ہم جانتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہے، ہم تمہیں اجازت نہیں دیتے کہ ان جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں دو۔نتیجہ پھر کیا نکلے گا فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوّام بِغَيْرِ عِلم پھر ان کو حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ اللہ کو گالیاں دیں اور علم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔پس روکا ہے تو مسلمانوں کو روکا ہے۔غیروں کو نہ روکا ہے نہ ان کے لئے کوئی سزا مقرر فرمائی ہے بلکہ یہ کہا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو غیروں کو حق حاصل ہو جائے گا۔ایک عقلی انسانی سطح پر حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ بھی جوابی کارروائی کریں تم جھوٹے خدا کو گالیاں دے کر اپنے منہ گندے کرو گے اور اس سے ان خداؤں کو کچھ پہنچے گا بھی نہیں۔وہ ہیں ہی نہیں۔جو فضا میں چیز ہی نہیں اس پر فائر کرنے سے وہ مرے گی کہاں سے۔لیکن تم اپنے خدا پر وہ فائر