ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 212 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 212

212 برداشت نہیں، یہ جو ہنگامہ آرائیاں پاکستان میں ہوتی رہی ہیں اور بنگلہ دیش میں بھی چلائی جارہی ہیں اور بعض ملکوں میں بھی یہ تحریک اسی طرح آہستہ آہستہ آگے بڑھائی جائے گی۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس کے تمام پہلوؤں پر ایک خطبات کے سلسلے میں روشنی ڈالوں۔متفرق مواقع پر سوال و جواب کی مجالس میں یہ باتیں زیر بحث لائی جا چکی ہیں۔جب سلمان رشدی کا قصہ ہوا تھا اس وقت بھی جماعت کے موقف کے طور پر میں نے یہ باتیں بیان کی تھیں۔مگر میں چاہتا ہوں کہ قوم پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک دفعہ اس مضمون کے ہر پہلو سے پردہ اٹھا دوں تا کہ بات اتنی کھل جائے کہ کوئی شخص پھر خدا کے حضور یہ عذر نہ پیش کر سکے کہ ہمیں معاملے کی سمجھ نہیں آئی تھی ، ہم تو ان باتوں سے واقف نہیں تھے۔۔۔۔۔۔اسلام ہی تمام نبیوں کی عصمت کا اعلان کرتا ہے۔۔۔توہین رسالت کی بحث میں اب میں براہ راست مذہبی پہلو سے داخل ہوتا ہوں۔سوال یہ ہے کہ صرف توہین رسالت کا سوال ہے یا تو ہین خداوندی کا بھی کوئی سوال ہے۔یا ملائک کی توہین کا بھی سوال ہے یا کتب کی بھی تو ہین کا سوال ہے۔توہین رسالت سے صرف حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی توہین کی مذموم کوشش ہے یا دیگر انبیاء کی توہین کا بھی کوئی سوال ہے۔یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ انبیاء جوکسی قوم کے نزدیک سچے ہیں انہی کی تو ہین کا مسئلہ ہے یا ان کی تو ہین کا بھی مسئلہ ہے جن کو لوگ جھوٹا سمجھتے ہیں۔ان کے متعلق قرآن کیا اجازت دیتا ہے؟ اگر قرآن یہ کہے کہ جن نبیوں کو تم سچا سمجھتے ہو ان کی عزت کی خاطر کھڑے ہو جاؤ اور ان کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قوانین بناؤ اور جن کو تم جھوٹا سمجھتے ہو ان کی تذلیل کی کھلی اجازت دو تو پھر ساری دنیا میں مذہب کے نام پر فساد پھیل جائے گا کیونکہ تمام دنیا میں بکثرت ایسے ہیں جو اکثر نبیوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔یہ علماء کی جہالت کی حد ہے کہ اس بات کو سمجھتے نہیں کہ اسلام کے سوا کوئی بھی ایسا مذ ہب نہیں جس نے تمام دنیا کے انبیاء کی عصمت کی حفاظت کی ہو اور انہیں سچا قرار دیا ہو۔اگر ہے تو کوئی نکال کے دکھائے۔اور ایسی جاہل قوم ہے کہ پاکستان کے علماء نے اخباروں میں جو بیان دیئے ہیں ان کی شہ سرخیاں لگی ہیں کہ صرف ایک اسلام ہے جس نے عصمت رسالت کا تصور پیش کیا ہے اور کسی قوم کسی مذہب میں یہ تصور نہیں ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی رسالت کی بات کرتے ہیں اور باقی انبیاء کی نہیں۔حالانکہ صرف ایک اسلام ہے جس نے تمام دنیا کے مذاہب کے نبیوں کی عصمت کا اعلان کیا ہے اور ان کی توہین کو کراہت کی نظر سے اور ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔باقی سب مذاہب دوسرے تمام انبیاء کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔اس لئے اگر علماء کی یہ مراد ہے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ جن کو تم سچا سمجھو ان کی توہین کے خلاف قانون سازی کرو جن کو تم جھوٹا سمجھو ان کے متعلق کھلی چھٹی دو کہ جو چاہے جتنی چاہے سر بازار گالیاں دیتا پھرے تو پھر ساری دنیا میں مسلمانوں کے لئے تو موقع نہیں ہوگا لیکن تمام مذاہب کو کھلی چھٹی ہوگی کہ اسلام کے خلاف جتنی چاہیں گندی زبان